میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 109
97 ایک دفعہ مجہولہ گاؤں میں آریوں نے قتل کا منصوبہ اور نصرت ایزدی ایک پوشیدہ میٹنگ کی جس میں اور باتیں پاس کرتے ہوئے یہ بھی تجویز کیا گیا کہ مجھے گھنو میں جو قادیانی مبلغ رہتا ہے اسے قتل کرا دیا جائے اس طرح اس گاؤں میں ہماری بھی دال گل سکتی ہے۔لہذا ہمارے قریبی گاؤں ہیکہ کے ایک منہ زور ٹھا کر بھوپ سنگھ نے مجھے قتل کرنے کا ذمہ لیا۔اس پر آریوں نے دو ہزار روپیہ قرض چھوڑ دینے کا اقرار کر لیا۔اس پنچائیت میں ایک احمد پور کا پنڈت تھا۔وہ اس رئیس پنڈت کے ہاں رات کو آکر ٹھہرا اور میرے بارے میں سارا قصہ بھی بیان کر دیا۔پنڈت صاحب صبح سویرے ہی گھوڑی پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے آپ اکیلے ہی دورہ پر نکل جایا کرتے ہیں مگر فلاں شخص سے ہوشیار رہنا اور آریہ سروں کی ہم خبر لیں گے اور ہم بھوپ سنگھ سے مل کر بھی اسے اس کام سے باز رہنے کی تلقین کریں گے۔میں نے اس کے اطلاع دینے پر پنڈت جی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں تسلی دی کہ ہم سب لوگوں کے خیر خواہ ہیں۔دیکھیں ہندو لڑکے بھی میرے پاس پڑھتے ہیں۔ہم متعصب نہیں ہیں اور ہمیں اپنے خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہماری ہر قدم پر مدد کرے گا۔دوسرے دن صبح ہی وہ بھوپ سنگھ چوپال پر ملا اور پوچھنے لگا کہ مولوی صاحب اب کدھر کا دورہ کرتا ہے۔میں نے کہا جس طرف سے آریوں کی میٹنگ یعنی پنچائیت کی خبر ملے گی ادھر ہی جاؤں گا۔دو تین دن ہوئے مجمولہ کی پنچائیت کا پتہ چلا تھا مگر وہ ان کی پرائیویٹ میٹنگ تھی۔چیدہ چیدہ ٹھاکر انہوں نے بلائے ہوئے تھے۔کیا آپ کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔کہنے لگا مجھے بلایا تو تھا مگر میں گیا نہیں۔اچھا تو پھر آج رات کو ہمارے ہاں ناچ ہے سب لوگوں نے آتا ہے کیا آپ بھی آئیں گے۔میں نے کہا کہ میں تو ایسی مجلسوں سے لوگوں کو بھی روکتا ہوں تو پھر میں کیسے جا سکتا