میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 72
60 پسند کرتی ہو تو پھر تم اس خواہش کو ترک کر دو۔یہ سن کر سب نے یہ جواب دیا کہ ہم اپنی اس خواہش کو قربان کرتی ہیں ہمیں صرف آپ ا کی اور اللہ تعالی کی ضرورت ہے۔بظاہر یہ الفاظ معمولی نظر آتے ہیں مگر جب مستورات کی حالت اور خواہشات کو سامنے رکھ کر غور کیا جاتا ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی بیویوں کے ایسا کہنے سے آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ان کے قلوب پر کتنا گہرا اثر تھا حالانکہ ان کا مطالبہ بھی جائز تھا لیکن انہوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی اور اپنے مطالبہ کے مقابل پر اپنے خدا اور اس کے رسول کا ساتھ نہ چھوڑا۔مگر یہ اعتراض کرنے والے زرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں کہ ان کی ایک بیوی بھی جسے اولاد نہ ہو گیارہ مردوں سے نیوگ کر سکتی ہے۔کتنی شرم کی بات ہے۔پس معلوم ہوا کہ عرب کا ایک آدمی نو یا گیارہ بیویاں سنبھال سکتا تھا مگر ان آریوں کی ایک بیوی گیارہ مردوں کو سنبھال سکتی ہے۔اگر یہ لوگ اس قسم کے اعتراض نہ کریں تو اور کیا کریں کیونکہ یہ کام ان کی طاقت سے باہر ہے۔ٹھاکر صاحب یہ الفاظ سن کر چیخ اٹھے کہ یہ ہندو دھرم کی توہین کی ہے۔میرے پاس حوالہ موجود تھا میں نے فورا "ستیار تھ پر کاش" نکال کر اسے دکھا دی۔وہ بہت شرمندہ ہوا۔رات کا پچھلا پہر تھا۔مباحثہ ٹھا کر صاحب کے ان الفاظ پر ختم ہوا کہ صبح دس بجے اب میں اعتراض کرونگا یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ قادیانی تلوار سے ہی قابو آئیں گے یہ علم سے قابو میں نہیں آسکتے۔میں نے کہا کہ اس شعر کا جواب آپ کو انشاء اللہ کل ہی دیا جائے گا۔غرضیکہ سب مرد و زن اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔میں اکیلا ہی دیا جلا کر بیٹھ گیا اور خیان کیا کہ اس کے بے تکے شعروں کا جواب بھی اگر بے تکے اشعار میں ہی دیا جائے تو اثر اچھا رہے گا اور خدا کا نام لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔فجر کی نماز تک میں نے اپنے ناقص علم کے مطابق ستر (۷۰) اشعار بنائے۔جو شعر مجھے اس