میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 39
29 که احمدی مولوی صاحب ہمارے استاد ہیں اور ہمارے دلوں میں ان کی اپنے باپوں سے بھی زیادہ عزت ہے اس لئے مسائل میں آپ بے شک انہیں شکست دیں کیونکہ ہمارے عقائد بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔مگر اخلاق سے گری ہوئی بات اگر کسی نے مولوی صاحب کو کسی یا جسمانی تکلیف دینے کی کوشش کی تو ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔اور حملہ کرنے والوں کی ہڈیاں توڑ دیں گے خواہ ہمیں قید ہی کیوں نہ بھگتنی پڑے۔میرے مولا کریم نے شریف نوجوانوں کی پارٹی مجھے دے دی جس سے مجھے بہت آرام ملتا رہا۔کھانے پینے اوڑھنے بچھونے کا سب کام وہی کرتے تھے۔میرا کام صرف سرکاری کام سے فراغت حاصل کرنے کے بعد نمازیں پڑھنا۔قرآن کریم پڑھانا اور آنے جانے والوں سے گفتگو کرنا ہی تھا اور بس۔ایک روز عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک بنگالی نوجوان جہاز سے اتر کر کسی مولوی کی تلاش میں میرے پاس پہنچا اور السلام علیکم کہا۔میر نے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ ہمارے ساتھ مارگل نمبر ۲ کے ایک بہت بڑے مولوی صاحب ہیں جو سہارنپور کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ مولود شریف کرائیں میں وقت پر آجاؤں گا مگر جب ہم نے تمام انتظامات مکمل کر لئے اور کنارہ پر موجود دوسرے جہازوں میں سے سب مہمان اکٹھے ہو گئے تو ان کی طرف سے اطلاع آئی کہ میں بیمار ہو گیا ہوں لہذا نہیں آسکتا۔ہمیں یہ سن کر سخت مایوسی ہوئی اور ہم شام سے کسی مولوی کی تلاش میں پھر رہے ہیں۔اب آپ کے پاس پہنچے ہیں۔براہ آپ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں۔میں اپنے بارہ شاگردوں کے ساتھ قرآن کریم لے کر کشتی کے ذریعہ جہاز پر پہنچا۔تمام جہاز پبلک سے بھرا ہوا تھا اور سب مایوس بیٹھے تھے۔ہمارے پہنچنے پر سب کو مرغ پلاؤ کھلایا گیا۔بعد میں نے آنحضرت ﷺ کی زندگی کے حالات بیان کرنے شروع کر دیئے اور تقریر میں