میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 247
235 دھر مسال مینڈر پہنچا اور انکے مقابلے پر جلسہ کرنے کیلئے ارد گرد کی جماعتوں کو اطلاع کر دی گئی۔ہمارے احمدی دوست کافی تعداد میں پہنچ گئے تو ہم نے یہ تجویز کیا کہ ہمارا ایک آدمی انکے جلسے میں ہونے والے اعتراضات لکھ کر ہمیں بھیجتا جائے اور ہم اسکے جوابات اپنے جلسے میں بیان کرتے جائیں گے۔جب انہیں ہمارے جلسے کا علم ہوا تو انہیں بے چینی ہونے لگی اور شور مچادیا۔تھانیدار صاحب کو مجبور کیا کہ احمدیوں کا جلسہ نہ ہونے دیں۔وہ تھانیدار صاحب ہمارے جلسہ میں آئے اور مجھے کہنے لگے کہ ایک شہر میں دو جلسے نہیں ہو سکتے۔آپ اپنا جلسہ بند کر دیں کیونکہ انکا جلسہ پہلے سے ہو رہا ہے۔وہ رو کے نہیں جاسکتے۔میں نے کہا تھانیدار صاحب وہ لوگ ہمارے خلاف تقاریر کر رہے ہیں اور ہم جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔دوسرے یہ کہ وہاں سے ۵۰۰ قدم کے فاصلے پر دوسرا جلسہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے فورا قدم ناپنے شروع کر دیئے۔ہمارا جلسہ ۷۰۰ قدم دور ثابت ہوا۔تھانیدار صاحب نے انکو کہہ دیا کہ وہ قانون کے پابند ہیں۔انکا جلسہ نہیں رک سکتا۔انکے جلسہ میں جو ہمارا رپورٹر گیا ہوا تھا۔اس نے ہم پر کیے جانے والے اعتراض لکھ کر بھیجنے شروع کر دئیے اور ہمارے جلسہ میں انکے جوابات بیان ہونے لگے ہمارا ر پورٹر ہر اعتراض اعلان کر دیتا کہ جس نے اس اعتراض کا جواب سننا ہو ۶۰۰ قدم کے فاصلے پر دوسرے جلسے میں سن لے۔اس طرح لوگ اعتراض اور جواب سننے کے لئے دونوں جلسوں میں آنے جانے لگے اور عجب سماں پیدا ہو گیا کھورہ صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ جو احمدی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کا مع جسم آسمان پر جانا ثابت نہیں ہے۔یہ خدا کی قدرت پر حملہ کرتے ہیں۔اور پھر بڑے زور سے کہا حالانکہ دیکھو کل رات ایک دوست ہمیں ایک بڑی موٹی مرغی دے گئے۔اور خدا نے یہ قدرت دکھائی کہ رات رات ہی میں اسکو بچہ پیدا ہو گیا۔اور وہ بچہ لوگوں کو