میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 246 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 246

234 کی جماعت میں پہنچا تو درہ شیر خان کے نمبردار رحیم خان اور دو اور معززین میرے پاس آئے۔اپنے سب حالات سنائے اور خدا کا واسطہ دے کر کہنے لگے کہ ہمارے گاؤں چل کر دعا کریں تاکہ ہم اس عذاب سے نجات پا جائیں۔اس نے رو رو کر جب مجھ سے یہ درخواست کی تو میں نے احمدی دوست سے کہا کہ چلیں وہاں چل کر نماز استسقاء ادا کرتے ہیں۔مگر میں نے رحیم خان کو کہہ دیا کہ انکا کوئی آدمی ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔چنانچہ ہیں احمدیوں کیساتھ میں درہ شیر خان چلا گیا۔گرم پتھروں پر نماز شروع کر دی۔بڑی رقت اور تضرع کے ساتھ خدا تعالٰی نے نماز ادا کرنے کا موقع دیا۔خدا تعالٰی نے مجھے اطمینان دلا دیا کہ ہم یہ عاجزانہ التجا منظور کرتے ہیں اور بارش کی امید ہو گئی۔ان کی عورتیں اور مرد دور سے ہمارے لمبے لمبے سجدے اور رکوع دیکھ رہے تھے۔نماز میں ہی دل کو تسلی ہو گئی تھی اور میں نے اعلان کر دیا کہ اب خدا تعالی جلدی بارش دے گا۔ہم نے نہ تو وہاں سے پانی پیا اور نہ ہی کچھ کھایا۔باقی احمدیوں کو انکے گاؤں بھیج دیا اور دو آدمی میرے ساتھ میرہ کشم تک گئے۔جاتے ہی پونچھ کی لاری مل گئی۔اسی وقت ایسی کالی گھٹا آئی کہ ہماری دعا کے مطابق خشک سالی والے علاقے میں موسلادھار بارش ہوئی۔پونچھ پہنچ کر قادیان سے تار ملی کہ اپنا سامان لے کر فورا قادیان آجائیں۔میں دو دن کے اندر اندر قادیان پہنچ گیا۔مجھے حضرت المصلح الموعود نے بھدرواہ کے علاقہ میں بھیجنے کیلئے بلوایا تھا۔تحصیل دھر مسال مینڈر میں غیر مولانا محمد حیات کھودہ کی مضحکہ خیز حرکت از جماعت لوگوں نے ہمارے خلاف جلسہ کرنے کے لئے مولوی محمد حیات کھودہ کو بلوایا تاکہ ہمارے خلاف لوگوں کو بدظن کرنیوالی باتیں بیان کرے۔کیونکہ دھر مال کے اردگرد کافی جماعتیں تھیں۔جب انکے جلسہ کرنے کی ہمیں اطلاع ملی تو میں بھی پونچھ سے روانہ ہو کر