میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 242 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 242

230 قبل والدہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا تھا۔بہت دکھ ہوا۔میں سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون کے کیا کر سکتا تھا۔لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ آپکی والدہ کے جنازہ کے متعلق حضرت المصلح الموعود کو اطلاع کی گئی تھی تو حضور نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے ارشاد فرمایا کہ آپ جنازہ پڑھا دیں۔احمد یہ اسکول کی گراؤنڈ میں مولوی صاحب نے جنازہ پڑھانے کا اعلان کر دیا۔سب لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے۔ادھر حضرت صاحب نے دوبارہ کسی سے پوچھا کہ یہ مائی کون تھی جو فوت ہو گئی ہے۔بتانے والوں نے عرض کیا کہ حضور یہ محمد حسین جو یوپی میں تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں انکی والدہ تھیں تو حضور نے فرمایا وہ تو یہاں نہیں ہیں میں خود انکا جنازہ پڑھاؤنگا اور آپ وہیں سے ہی جنازہ گاہ کی طرف تشریف لے آئے۔آگے مولوی صاحب صفیں بندھوا کر اللہ اکبر کہنے ہی والے تھے اور ہاتھ اٹھانے ہی لگے تھے کہ انہیں حضرت صاحب سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے۔مولوی صاحب فورا رک گئے۔حضور نے خود جنازہ پڑھایا اور تقریباً سو قدم تک جنازے کو کندھا بھی دیا۔حضور واپس آگئے۔چونکہ مرحومہ موصیہ تھیں لہذا وہ قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔۱۹۳۲ء میں میرا ہیڈ کوارٹر انبالہ شہر میں تھا اور ہم نے انبالہ کی تحصیل روپڑ شہر میں جلسہ کا انتظام کیا ہوا تھا۔اس جلسہ میں میری تقریر جاری تھی تو قادیان سے تار موصول ہوئی کہ آپکے والد صاحب وفات پاگئے ہیں اس لیے آپ آسکتے ہیں چونکہ دو دن جلسہ تھا لہذا غیر احمدیوں پر برا اثر پڑنے کے ڈر سے جلسہ اپنے وقت پر ہی ختم کیا۔جلسہ کا سارا انتظام میرے ہاتھ تھا اور بہت سا سامان عیسائیوں اور آریوں سے بھی مستعار لیا ہوا تھا یعنی میزیں کرسیاں دریاں وغیرہ) جو انکو لوٹانا تھا۔غیر احمدی مولویوں کی جانب سے بے حد مخالفت ہوئی۔وہ پوری طاقت سے جلسہ میں گڑبڑ پیدا