میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 226 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 226

214 کے لئے آتے ہیں۔اسی طرح ہم ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو تبلیغ بھی کرتے ہیں مگر جہاں شہر خموشاں ہے وہاں یہ میت کو دفن نہیں کرنے دیتے۔حافظ صاحب یا تو یہ ثابت کریں کہ ہمارے کسی مردہ نے اٹھ کر ان کے کسی مردہ کو تبلیغ کی ہو اور اس نے ان کے پاس رپورٹ کی ہو کہ یہ احمدی ہمیں تنگ کرتا ہے تو پھر تو ان کے روکنے پر غور ہو سکتا ہے اور اگر یہ ایسا ثابت نہیں کر سکتے تو جہاں ہم ایک دوسرے سے لڑ سکتے ہیں تبلیغ کر سکتے ہیں وہاں تو ہم اکٹھے رہیں اور جہاں کوئی ایک دوسرے کو گزند نہیں پہنچا سکتا وہاں سے یہ روکتے ہیں۔گورنر صاحب مسکرائے اور حافظ صاحب سے کہنے لگے کہ کیا آپ اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں کہ کسی احمدی کی میت نے آپ کی کسی میت کو ستایا ہے یا تبلیغ کی ہے۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ انہیں قبرستان میں میت دفن کرنے سے نہیں روک سکتے اور ساتھ ہی S۔P صاحب کو آرڈر دیا کہ پولیس کی ایک مسلح جمعیت ساتھ لے کر میت کے ساتھ جاؤ اور اگر کوئی روک پیدا کرے تو اسے پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔غرضیکہ پولیس کی معیت میں ہم میت کو لیکر قبرستان گئے اور اسے دفن کیا۔بہت تعداد میں لوگ اس نظارے کو دیکھ کر حیران تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو تمام احراری وہاں سے بھاگ گئے ہوئے تھے۔اس بات کا اس علاقہ کے تمام لوگوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔میں ۱۹۴۵ء میں بھدرواہ سے کشتواڑ چلا گیا اور آریوں کی طرف سے چیلنج آریہ میرے بعد بھدرواہ چلے گئے۔انہوں نے وہاں اسلام پر بڑے خطرناک اعتراض کرنے شروع کئے جن کا وہاں کے غیر احمدی نوجوانوں پر بہت برا اثر پڑا۔وہ اپنے مولویوں کے پاس گئے تا وہ ان اعتراضوں کے جواب سن سکیں لیکن انہوں نے کوئی جواب دینے پر آمادگی ظاہر کرنے کی بجائے الٹا