میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 19
13 بان بابا حیوا نے بتایا کہ حضور یہ سکول کے لڑکے قادیان سے آئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ رتھ روک لو اور بعد میں نیچے اتر کر ہم سب کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور ساتھ ہی کچھ میٹھے اور کچھ پھیکے پنے سب کو تھوڑے تھوڑے دیئے۔ہم سب چنے چہاتے رہے اور بعد میں نہرہی سے پانی پیا۔پھر حضور بھی ہمارے ساتھ پیدل چلنے لگے۔ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ قادیان سے آنے والے چند اور دوستوں سے ملاقات ہوئی۔حضور ان سے مصافحہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ چلتے جاتے تھے۔جب حضور کے ہمراہ یہ قافلہ موضع بران میں پہنچا تو وہاں کے دو معزز سکھوں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا ” مرحاجی ساڈی بنتی ہے کہ تیس رو پیو" یعنی ہماری عرض ہے آپ اس پی کر جائیں۔حضور نے فرمایا آدمی بہت زیادہ ہیں آپ تکلیف نہ کریں مگر انہوں نے بہت اصرار کیا اور دو چار پائیاں بچھا کر ان پر سفید کھیں بچھا دیئے۔حضور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس پر بیٹھ گئے۔دو بلینے چل رہے تھے۔انہوں نے سب کو رس پلایا۔بعدہ حضور پیدل ہی قافلہ کے ہمراہ قادیان تشریف لائے۔فروری ۱۹۰۵ء میں صبح کے وقت جو سب سے بڑا زلزلہ آیا تھا اس وقت میری عمر تقریبا تیرہ سال تھی۔سارا دن چھوٹے چھوٹے زلزلے آتے رہے۔اکثر لوگ شہر سے باہر چلے گئے تھے اور حضور بھی اپنے باغ میں تشریف لے گئے تھے۔۱۹۰۵ء میں حضرت مولوی عبدالکریم ہشتی مقبرہ قادیان میں پہلی قبر میں۔صاحب کی وفات ہوئی اور چند ماہ روہڑی قبرستان میں آپ کو امامت دفن کیا گیا۔بعد میں بہشتی مقبرہ قادیان میں آپ کے تابوت کو لایا گیا۔اس وقت میں بھی تابوت اٹھانے والوں میں شامل تھا۔اس طرح بہشتی مقبرہ قادیان میں پہلی قبر مولوی عبد الکریم صاحب کی بنی۔