میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 217
205 تعالی کا شکر ادا کیا۔میں نے برتن میں ایک چوٹی رکھ دی۔جب وہ برتن اٹھانے آئی تو چونی نکال کر میرے کمبل پر رکھ کر بولی جنہوں نے پر ماتما کا نام تک نہیں لیا وہ تو کھا کر ہو گئے اور جنہوں نے پرماتما کی پوجا کی وہ بھوکے سو جائیں؟ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا۔میں نے اپنے گھر کے لئے مکئی کی روٹیاں پکائی ہوئی ہیں۔آپ کے لئے گیہوں کی روٹی پکا کر لائی ہوں۔یہ کہہ کر وہ گھر چلی گئی اور میں بھی سو گیا۔صبح بیدار ہو کر قریبی چشمہ سے وضو کیا نماز پڑھی۔وہ ہندو بہن بھی اس چشمہ سے پانی لیکر آئی اور میرے آنے تک اس نے روٹی پکالی تھی اور اب میرے سامنے رکھ دی۔میں نے اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ناشتہ کے بعد دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ڈوڈہ کے پل پر کچھ دکانیں تھیں۔وہاں سے چائے پی اور کچھ انڈے ہمراہ لے لئے۔رات بھر رواہ پہنچ گئے۔بھدرواہ میں قیام اور شدید مخالفت بھدرواہ پہنچ کر عبدالرزاق صاحب لاہوری احمدی کی دوکان پر گئے۔وہ بھی مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے۔مزدور اپنی مزدوری لیکر جانے لگے تو میں نے انہیں چار آنے زائد دے دیئے۔وہ بیچارے دعا دیتے ہوئے واپس چلے گئے۔عبد الرزاق صاحب مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ حضرت امیر صاحب کی طبیعت کیسی تھی۔میں نے کہا کہ میں قادیان سے آرہا ہوں۔وہ یہ سن کر خاموش ہو گیا اور تھوڑی دیر کے بعد بولا کہ اب قادیان میں کیا رکھا ہے۔میں نے کہا چڑیا گھر اور عجائب گھر لاہور میں ہیں اور اسلام قادیان میں ہے۔وہ میرا جواب سن کر جل گیا مگر بظاہر کچھ نہ بولا۔میں نے بھی محسوس کیا کہ اس جگہ پر میرا بیٹھنا درست نہیں۔قریب ہی سنار کی دوکان اور اس پر چوبارہ تھا۔میں نے اس سے کہا کہ اگر چوبارہ خالی ہو تو مجھے کرائے پر دے دیں۔کہنے لگا کہ ماہوار ایک روپیپر کرایہ لوں گا۔میں نے