میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 16 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 16

12 صاحب مجھے دیکھتے تو بہت خوش ہوا کرتے تھے۔میں نے اپنے والد صاحب کو ساتھ سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ ختم کرایا تھا اور وہ ہمیشہ بالالتزام تلاوت کرتے تھے۔"مینارة المسیح کی بنیاد" ۱۹۰۳ء میں میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت مینارة المسیح کی بنیاد کھودی گئی اور میرے اندازے کے مطابق زمین کی سطح سے میں فٹ گہرائی پر بجری بھر کر کوٹنا شروع کیا اور بیت اقصیٰ کے فرش سے چار فٹ بلندی پر ختم کیا گیا۔یہ مینارہ حضرت خلیفتہ اصبح الثانی نور اللہ مرقدہ کی خلافت کے زمانے میں 1910ء میں مکمل ہوا۔میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا کہ ایک دن شدید سردی کی "برف کا نظارہ" وجہ سے پانی منجمد ہو گیا۔حضور کی ایک خادمہ آئیں اور کہنے لگیں کہ اے لڑ کو آج حضور کو برف دکھانی ہے۔میں نے بھی برف کا بڑا سا ٹکڑا تانبے کے ایک مجمع میں رکھ دیا اور اسے سر پر اٹھا کر جب ہم حضور کے کمرے میں پہنچے تو حضور اس برف کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ہماری طرف دیکھ کر فرمایا لڑکوں سے تو سردی بھی ڈرتی ہے۔کیونکہ اس وقت میں نے صرف ایک قمیض پہن رکھی تھی اور شلوار بھی اوپر اڑس رکھی تھی جب کہ سردی شدید تھی۔حضور نے مجھے بھی انگیٹھی کے پاس بٹھا لیا اور چبانے کو ریوڑیاں دیں۔خود آپ دوبارہ لکھنے میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد اجازت لے کر ہم دوبارہ سکول آگئے کچھ عرصہ کے بعد حضور گورداسپور خزانہ سے اپنا جرمانہ واپس لینے کے لئے چلے گئے۔وہاں سے حضور نے جس دن قاریان واپس آنا تھا اس دن ہمیں سکول سے چھٹی ہو گئی اور ہم اپنے اپنے بستے گھروں میں چھوڑ کر بھاگے بھاگے موضع براں کے راستے نہر کی پٹڑی پر ہو لئے۔کافی دور جا کر ہمیں حضور ایک رتھ پر تشریف لاتے ہوئے نظر آئے۔جب ہم رتھ کے قریب پہنچے تو حضور نے پوچھا یہ لڑکے کون ہیں۔رتھ