میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 195 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 195

183 اور اسی لاری سے جانا تھا جسے ڈپٹی صاحب نے خود جانے کے لئے رکوایا ہوا تھا۔انہوں نے بنگلہ جانا تھا۔لاری کی تمام سواریاں رکنے کی وجہ سے تنگ آئی ہوئی تھیں۔ڈپٹی صاحب اندر سے نکلنے میں دیر کر رہے تھے۔سواریاں انہیں گالیاں دے رہی تھیں۔لاری کا ڈرائیور مجھے جانتا تھا۔اس نے دوسری سیٹ پر میری جگہ بنا دی۔تھوڑی دیر کے بعد میری اگلی سیٹ پر کٹر احراری ڈپٹی صاحب آکر بیٹھ گئے اور مجھے دیکھ کر بولے کہ مرزائی سوار ہے خدا ہی بچائے۔میں نے جھٹ کہہ دیا کہ میں چوتھے پانچویں روز جاتا ہی رہتا ہوں۔خدا تعالی سلامتی ہے ہی لے جاتا رہا ہے۔ڈرائیور صاحب گواہ موجود ہیں۔آج ڈپٹی صاحب سوار ہیں دیکھیں کیا حشر ہوتا ہے۔وہ یہ سن کر ہنس پڑا۔چھ میل کے فاصلہ کے بعد لاری کیچڑ میں پھنس گئی۔سواریوں نے نکالنے کی بہت کوشش کی۔پڑول بھی سارا ختم ہو گیا مگر وہ نہ نکلی۔لوگ کہنے لگے کہ مولوی صاحب کی بات پوری ہو گئی۔ڈپٹی صاحب بھی اتر آئے اور میں بھی اور باقی دوست بھی۔میں نے ڈرائیور سے کہا آپ اس جگہ تک کا کرایہ لے لیں۔آگے میں پیدل ہی چلا جاؤں گا۔وہ کہنے لگا کہ کرایہ میں کسی سے بھی نہیں لوں گا۔مجھے افسوس ہے کہ آپ سب لوگوں کو پیدل جانا پڑے گا۔میں السلام علیکم کہہ کر چل پڑا تو ڈپٹی صاحب نے آواز دی کہ واپس آجائیں۔اس گاؤں سے گھو ڑیاں منگوا لیتے ہیں پھر چلیں گے۔میں نے کہا جناب عالی آپ کا شکریہ جب تک انتظار کرنا ہے (گھوڑی کا) تب تک میں کریام پہنچ جاؤں گا۔ڈپٹی صاحب کہنے لگے کہ مرزا صاحب نے آپ کو کیا دکھایا ہے۔میں نے کہا مرزا صاحب نے ہمیں صحیح مسلمان بن کر رسول پاک ﷺ کا نمونہ دکھایا ہے اور ہم نے خدا تعالیٰ کا نور دیکھا ہے کہنے لگے خدا کا نور کیسا ہے؟ میں نے کہا صحیح طور پر بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں اور نہ میں اس کا نقشہ ہی بتا سکتا ہوں۔صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ وہ نور بھی ہے