میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 184
172 آپ کا گزارہ اچھا ہو جائے گا۔اب میں نے آپ سے تحریر لے کر جاتا ہے کہ آپ کب تک جواب دیں گے۔میں نے کہا کہ آپ کی ہمدردی اور پیش کش کا بہت بہت شکریہ اور میں جناب کی خدمت میں جواب ابھی عرض کر دیتا ہوں اور امید ہے کہ میرا سارا جواب سن کر آپ آسانی سے نتیجہ نکال لیں گے۔اول تو آپ کو میرے ایمان کے متعلق ہمالیہ پہاڑ جتنی غلط فہمی ہو گئی ہے۔میں کسی روپیہ کی خاطر احمدیت میں نہیں آیا بلکہ اللہ پاک کا بہت ہی شکر گزار ہوں کہ بٹالہ جیسے شہر کے ماحول میں رہ کر میرے والدین نے احمدیت قبول کرلی اور مجھے ورثہ میں مل گئی۔پھر دوسری مرتبہ میں اپنے پیدا کرنے والے خالق کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میرے والدین کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی مع اہل و عیال ۱۹۰۲ء میں قادیان آنے کی توفیق بخشی۔اس وقت میری عمر دس سال تھی اور خدا کا شکر گزار ہوں کہ میری آنکھوں کو اس پیارے خدا کے مامور اور آنحضرت ﷺ کے نور کے حصہ کو دیکھنے کا موقع ملا جس نے ہمیں شیر بننے کے لئے اس قسم کی تعلیم سکھائی جس سے غیر مذاہب کا مقابلہ کرنے کی ہم میں جرات پیدا ہو گئی اور آنحضرت ﷺ ہوا دین اصل شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیا اور قرآن و اسلام اور بانی اسلام علیہ السلام پر اعتراض کرنے والوں کو کثیر انعام رکھ کر مقابلہ کے لئے انکار کر بلایا کہ کوئی ہے جو میرے سامنے اگر ان پر اعتراض کر سکے اور وہ علمی جواہر پارے تقسیم کر دیئے جس سے ساری دنیا کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تیسری دفعہ اپنے رزاق خدا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ اس نے ہمیں حقیقی دین کی تبلیغ کا موقع بھی دیا اور کھانا اور کپڑا بھی مل رہا ہے ورنہ جب ہم نے بیعت کرلی تو وہ ہمیں حکم دے سکتے تھے کہ جاؤ ٹوکری اٹھاؤ اور تبلیغ کرے۔اس وقت ہم بالکل انکار نہ کر سکتے تھے۔بابو صاحب ہم تو ایمان حاصل کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش میں رات دن پر کا لایا