میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 183
171 طرف لے جا کر بڑے ہمدردانہ لہجے میں بات چیت کا آغاز کیا۔کہنے لگے کہ میں نے خفیہ طور پر معلوم کرایا تھا کہ آپ کدھر جا رہے ہیں۔جب یہ معلوم ہوا کہ آپ چھاؤنی جا رہے ہیں تو میں نے بھی جھٹ چھاؤنی کا ٹکٹ لے لیا۔صرف آپ کی ہمدردی نے ایسا کرنے پر مجبور کیا مگر آپ کی سادگی دیکھ کر میں بڑا کڑھتا ہوں کہ اتنی تھوڑی تنخواہ دی جاتی ہے جب کہ آپ ایسے قابل ہیں کہ آریوں ، عیسائیوں سے آپ کے سوال و جواب سن کر آپ کی قدر معلوم ہو جاتی ہے۔آپ کے اخلاق و عادات بھی اچھے ہیں اور مسلمانوں کے فرقوں سے بھی خاصے واقف ہیں اور تقریر کو بھی خوب نبھا لیتے ہیں۔اس لئے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ آپ کو یہ خوشخبری دوں کہ ہماری انجمن کو آپ جیسے ایک مبلغ کی ضرورت ہے اور میں نے سید صاحب کے پاس آپ کا ذکر کیا تھا۔انہوں نے بھی مجھے تسلی دی ہے۔جب میں آپ کا کام دیکھتا ہوں اور پھر ایسا گرا ہوا لباس دیکھتا ہوں تو مجھے آپ پر ترس آتا ہے۔اب آپ تائیں کہ آپ کی انجمن آپ کو کیا دیتی ہے۔میں نے کہا میں تو ابھی بتانے کو تیار نہیں ہوں۔آپ اپنی گنجائش بتا دیں۔میں آپ کی ہمدردی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے چار پانچ مولوی کام کرتے ہیں۔ہم انہیں پچاس ساٹھ روپے دیتے ہیں اور سفر خرچ بھی تھیں روپے تک ہو جاتا ہے۔چنانچہ اوسطا" یکصد روپے کے قریب ہو جاتا ہے۔آپ کو زیادہ تر ہم نے غیر مذاہب کے لئے لیتا ہے اس لئے آپ کو یکصد روپیہ سے شروع کر کے پانچ روپیہ سالانہ ترقی اور دو صد روپے پر گریڈ ختم ہو گا دیں گے۔پھر جیسے جیسے حالات تبدیل ہوں گے دیکھا جائے گا اور پچاس سے ساٹھ روپے تک آپ کا سفر خرچ بھی ہو جایا کرے گا اور جو چندہ آپ کو ملے وہ انجمن کا اور جو نذرانہ ملے وہ آپ کا ہو گا۔اب ایک تو آپ بچے اسلام کی خدمت کر کے جنت کے وارث بنیں گے دوسرے دنیوی حساب میں بھی