میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 176
164 ہے تو اس وقت میں بھی ایک روپیہ دونگا کیونکہ ہماری ملاقات ایک لمبے عرصہ کے بعد ہو گی اور وہ بھی آپ کی کوشش ہے۔اس پر پروفیسر صاحب اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ دوستو پھر مشورہ کر کے بات کریں گے اور میرے ساتھ مصافحہ کر کے سب نے اپنی اپنی راہ لی تو حافظ صاحب بھی اپنے خریداروں سے فارغ ہو کر آرہے تھے کہ مجھے راستہ میں ملے اور کہنے لگے کیوں صاحب کوئی بات تو نہیں ہوئی۔میں نے کہا صرف دو باتیں ہی ہوئی ہیں اب ان سے جا کر پوچھ لینا۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا کوئی احمدی دوست اور بھی یہاں ہیں ؟ بتانے لگے کہ یہاں ڈاکٹر منیر احمد صاحب ہیں جو قادیانی ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب کے بھتیجے ہیں اور اس جگہ تھوڑے ہی عرصہ سے آئے ہوئے ہیں۔میں نے کہا آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ مجھے ان کے مکان تک پہنچا دیں وہ مجھے ڈاکٹر صاحب سے ملا آئے اور ڈاکٹر صاحب مجھے اپنے گھر لے گئے۔وہ بھی اکیلے ہی تھے اس لئے خوب باتیں ہوتی رہیں۔رات کو حافظ صاحب بھی تشریف لے آئے۔پروفیسر صاحب سے جو میری گفتگو ہوئی تھی۔میں نے وہ سنائی۔وہ بہت خوش ہوئے اور مجھ سے اپنی بے توجہی کی معافی مانگی میں نے انہیں بتایا کہ یہ سلسلہ روحانی ہے ظاہری علم پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ہم امی نبی کی امت ہیں مگر حضور ﷺ کی روحانی تعلیم قلوب سے مفقود ہو گئی تھی اس لئے خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کو دنیا میں دوبارہ روحانی زندگی کے حصول کے طریق بتانے کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔میری بہت تھوڑی تعلیم ہے مگر صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا ہے اور دعا کر کے عالموں ، فاضلوں ، پروفیسروں ، آریوں ، عیسائیوں اور غیر احمد ہی اصحاب کے مولویوں سے گفتگو کا خدا تعالٰی نے خوب موقع دیا اور ہر جگہ خود ہی میری مدد فرما کر کامیابی دی یہ حضرت صاحبوں کی صداقت کا ثبوت ہے۔میں نے انہیں مولانا جودت کی بات بھی سنا دی۔