میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 175
163 نصف درجن آدمی انتظار کر رہے ہیں۔حافظ صاحب نے جواب دے دیا کہ یہ تو ہمارے مہمان آئے ہوئے ہیں۔جب ہمارے مولوی صاحب آئیں گے تو لے کر حاضر ہو جاؤنگا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ میں پہلے پروفیسر صاحب سے ملاقات کر آتا ہوں۔جب آپ کا مبلغ آئیگا تو ان کے ساتھ آپ تشریف لے جانا۔چنانچہ میں حافظ صاحب سے سلام کر کے بلانے والے کے ہمراہ چلا گیا۔جاکر السلام علیکم کہا۔سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور مصافحہ کیا۔مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی اس لئے پہلے پانی پیا۔پھر پروفیسر صاحب بولے آپ کا دولت خانہ ؟ میں نے کہا ر جناب عالی قادیان۔وہ بولے کیا آپ مبلغ ہیں۔میں نے کہا جناب عالی دیہات میں بڑے بڑے علامہ دورے نہیں کر سکتے اور نہ دیہاتی لوگ ہی عالمانہ باتیں سمجھنے کے اہل ہوتے ہیں۔اس لئے ہم لوگوں نے دیہات میں دورے کر کے اسلام سکھانے کے لئے اپنی زندگی پیش کی ہوئی ہے۔پروفیسر صاحب کہنے لگے۔مولوی صاحب۔آپ تو بڑے شریف نیک اور سادہ آدمی ہیں آپ مرزا صاحب کے جال میں کیسے پھنس گئے بڑے تعجب کی بات ہے۔میں نے کہا کہ جناب عالی حضرت آدم سے تا دم یہی توریت ، زبور، انجیل ، قرآن مجید و دیگر کتب مقدسہ سے ثابت ہوا ہے کہ ہمیشہ یہ جال لگتے آئے اور بڑے بڑے نیک شریف اور سادہ لوگ ہی پہنتے رہے ہیں اور شروع سے ابلیس انا خیر منه" کہہ کر اکڑ گیا تھا اور ہمیشہ اس کی سیرت کے لوگ ہی اپنے آپ کو عقل مند اور ماننے والوں کو سفھاء کہہ کر دور ہی رہے ہیں۔سو اس زمانہ میں یہ قانون کس طرح بدل سکتا ہے۔ہزاروں انبیاء کی فہرستیں اس بات کی شاہد ناطق ہیں۔پروفیسر صاحب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اس مولوی صاحب کے لئے مولوی جودت صاحب رامپوری کو بلاؤ پھر بات کرنے کا مزہ آئے گا۔میں نے کہا کہ اگر مولانا جودت صاحب کو بلوانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنا