میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 170 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 170

158 موجود ہیں اور میں انشاء اللہ تعالی قرآن پاک سے ان کے جواب بھی دے دوں گا۔لیکن معترض کو ان کفار ہی میں شامل سمجھا جائے گا۔جنہوں نے حضور ا اعتراض کئے تھے۔یہ سن کر سب دوست کہنے لگے کہ بہت اچھا اصول ہے۔ادھر مولوی صاحب کچھ جھجکنے لگے۔بعد میں اس نے کافی اعتراض کئے جن کے میں نے بڑے مدلل جواب دیئے۔ان کی طرف سے تینوں دن تین مختلف مولوی مناظرہ کے لئے آئے اور ادھر میں اکیلا ہی خدا پر توکل کرتے ہوئے مقابلہ کرتا رہا۔یہ مناظرہ بہت کامیاب رہا اور مناظرے کے بعد بیعتیں بھی ہو ئیں اور سارے پونچھ میں میری بہت شہرت ہو گئی۔بعدہ ہر جگہ تبلیغ کے لئے پہنچا رہا اور اسی طرح اپنی ذاتی طور پر بھی کافی واقفیت ہو گئی۔مولوی عبد القادر اور مولوی اسماعیل روپڑی سے مناظرہ آریوں ، سکھوں ، وہابیوں ، سینوں، شیعوں ، عیسائیوں اور لاہوری احمدیوں سے میری اکثر بات چیت ہوتی رہتی تھی اور سب میرے اخلاق کے بڑے مداح تھے مگر ہر جگہ اپنی شکست کو بھی ناپسند کرتے تھے۔انہیں دنوں میں کوٹلی میں حافظ عبد القادر اور محمد اسماعیل سے مناظرے کرنے آیا ہوا تھا۔دو دن مناظرہ بڑے جوش و خروش سے ہوا۔تینوں اہم موضوعات پر عبد القادر صاحب نے بہت چیلنج بازی کا مظاہرہ کیا جو کہ بغیر گولی کے بندوق چلانے کے مترادف تھا ہمارے صدر ایک ہندو وکیل تھے۔نہایت شریف اور مذہبی آدمی تھے۔خدا کے فضل سے وہاں کے ہندو اور غیر احمدیوں نے مجھ سے بہت اچھا اثر لیا اور وہ میرے گرویدہ ہو گئے۔عبد القادر نے یہ کہہ کر کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے حمل ہو گیا ہے پبلک کو بہت ہنسایا۔میں نے اپنی ٹرن