میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 168 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 168

156 بطور ہرجانہ ادا کرے۔مگر اب مناظرہ میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں اور مولوی صاحب بھی آگے دورے پر گئے ہوئے ہیں اس لئے مجھے سخت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔میرے گھر والوں نے تسلی دی کہ آج مولوی صاحب واپس آجائیں گے کیونکہ دورہ دس روزہ تھا اور آج دسواں ہی دن ہے۔تھوڑی ہی دیر بعد میں بیس میل کا ایک لمبا اور پیدل سفر کر کے گھر پہنچا۔بہت تھکان تھی کیونکہ دس دنوں میں ایک سو پچاس میل کا پیدل سفر کیا تھا۔فرمان صاحب نے سب حالات سنائے میں نے روانگی کے لئے دوبارہ کتابیں رکھ لیں اور اگلے ہی دن ان کے ساتھ چل دیا۔اب کے پھر تیں میل کا پیدل سفر کیا تو مزید چلنا دو بھر ہو گیا۔اندھیرا ہو رہا تھا۔رات کو ایک مکان پر پہنچے۔وہاں صرف ایک عورت ہی تھی اس لئے وہاں ہم نے رہنا پسند نہ کیا اور بڑی مشکل سے ایک اور اگلے ہی ) مکان پر پہنچے اور باہر سے آواز دی۔اندر ایک مردانہ آواز آئی کہ یہاں رہنے کی جگہ نہیں ہے۔میں نے کہا کہ ہم نے تو رات اپنی جگہ بسر کرتا ہے۔خیر وہ مرد باہر آیا اور بتانے لگا کہ میری لڑکی شدید بیمار ہے اس لئے آپ کو تکلیف ہو گی۔میں نے کہا کہ ہم دعا کریں گے آپ فکر نہ کریں اور ایک مصلی لے آؤ۔ہم تینوں نے وہاں نمازیں پڑھیں۔نماز کے بعد میں نے اس مرد سے کہا کہ بیمار لڑکی کو یہاں لے آؤ۔وہ بیماری کی وجہ سے سخت نحیف ہو چکی تھی بڑی مشکل سے آئی میں نے پانی دم کر کے اسے پلایا۔اسے خونی دست آرہے تھے۔میں نے اس سے پوچھا کہ گھر میں سونف ہو تو گرم کر کے پیس کرلے آئیں۔وہ تھوڑی دیر کے بعد باریک کر کے لے آیا۔میں نے اپنے پاس سے مصری ڈال کر سات پڑیاں بنا دیں اور دو دو گھنٹے کے وقفے سے دینے کی تاکید کر دی۔ہم کھانا وغیرہ کھا کر سو گئے۔صبح جب ہم بیدار ہوئے تو وہ بتانے لگا کہ بچی کو خدا تعالٰی نے بالکل آرام دے دیا ہے اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔دن کے وقت ہمیں الوداع