میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 167 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 167

155 اڑ گئیں اور مجلس میں شور مچ گیا کہ پیر صاحب گھوڑے ہار گئے۔پیر صاحب میں مزید مناظرہ کرنے کی سکت کہاں باقی تھی! مجھ سے کہنے لگے کہ میں پونچھ سے مولوی لا کر مناظرہ کراؤں گا۔اب مناظرہ ختم ہے اور السلام علیکم کہہ کر چل دیئے۔میں پیر صاحب کو آواز میں دیتا رہا کہ پیر جی ابھی مناظرے کا وقت کافی باقی ہے مگر ذیلدار نمبردار اور سپاہی کہنے لگے کہ مولوی صاحب پیر جی کو جانے دیں۔بعد میں واپس آئے اور منتیں کرنے لگے کہ گھوڑے واپس کر دیں۔میں نے کہا کہ پہلے مجھے یہ تحریر لکھ دیں کہ یہ قادیانی مولوی کے گھوڑے ہیں۔کہنے لگا اچھا اب آپ مجھے معاف کر دیں۔یہ آپ ہی کے گھوڑے ہیں۔اس کی منتیں دیکھ کر میں نے گھوڑے واپس کر دیئے۔اس مناظرہ کا تمام اس علاقہ میں بہت اچھا اثر ہوا۔وہ پیر جی جس طرف بھی دورہ پر گئے یہ مشہوری کرتے گئے کہ قادیانی مولوی بڑا عالم ہے۔وہ میں ہی ہوں جس نے ان کے ساتھ جھڑ ہیں برداشت کر لی ہیں۔اور کس کی طاقت ہے کہ اس کے ساتھ مناظرہ کر سکے۔غرضیکہ تمام علاقہ کے مولوی دب گئے اور میرا خدا تعالی کے فضل سے وہاں بڑا رعب قائم ہو گیا۔ایک دفعہ میں پولیس مولوی عزیز الدین شاہ پوری کا مناظرہ کیلئے چیلنج کرمان ، میوه ، راوی ہجیرہ کوٹ اور باغ کا دورہ کرنے گیا ہوا تھا کہ میری عدم موجودگی میں کنوئیاں میں میرے گھر مکرم فرمان علی خاں صاحب احمدی کالا بن کوٹلی سے پہنچے اور میری غیر حاضری کی وجہ سے بہت افسردہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک غیر احمدی مولوی مولوی عزیز الدین صاحب نے مجھے مناظرے کا تحریری چیلنج دیا تھا۔اس وقت ذیلدار اور نمبردار اس کے ساتھ تھے۔میں نے منظور کر لیا تھا۔ساتھ ہی فریقین کی طرف سے تحریریں بھی لکھی گئیں کہ جو مقررہ تاریخ پر اپنا مولوی پیش نہ کرے وہ فریق ثانی کو دو صد روپیہ