میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 165 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 165

153 مچانا شروع کر دیا کہ دیکھو اسلام کے خلاف ہر کام کرتے ہیں۔دو نمازیں اکٹھی کرنے کا کہیں بھی حکم نہیں ہے۔ہم نے نماز سے فارغ ہو کر حدیث بخاری سے جمع صلوتین کا باب ہی دکھا دیا تو پیر صاحب کی اس طرح بہت کرکری ہوئی۔حیات مسیح پر بے چارے نے کیا بیان کرنا تھا۔وہ مناظرہ کے آخر تک ایک ہی آیت بل رفعه الله الیہ پیش کر کے بیٹھ گئے۔میں نے کہا پیر صاحب مسیح کی وفات کے ساتھ آپ کی وفات بھی ہو جاتی ہے۔دس منٹ کی جگہ ایک منٹ ہی لے کر بیٹھ جاتے ہیں کیا بات ہے۔آپ نے یہ مصیبت کیوں خواہ مخواہ اپنے گلے ڈال لی ہے جب کہ پیروں فقیروں کا کام روٹی مانگنا یا شیرینی حاصل کرنا ہے۔آپ سے مناظرہ میں الجھنے کے لئے کس نے کہہ دیا تھا۔اب سن لیں کہ رفع کے معنی آسمان پر جانے کے نہیں ہوتے درنہ یہ مانا پڑے گا کہ امت کے سب اولیاء اور بزرگ رات دن آسمان پر جانے کے لئے اپنی نمازوں میں دعائیں کرتے رہے مگر خدا تعالیٰ نے نہ تو ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی سنی نہ اہل بیعت کی ، نہ اصحاب رسول کی سنی نہ خلفاء راشدین کی سنی نہ اولیاء کی سنی اور نہ ہی صوفیاء کی۔غرضیکہ امت میں سے کسی کی بھی یہ دعا نہ سنی جب کہ آنحضرت ا سے لیکر آج تک دونوں سجدوں کے الله درمیان یہی دعا پڑھی جاتی رہی ہے کہ "وار فعنی " اور ایک بھی آسمان پر نہیں گیا بلکه سب اسی زمین میں مدفون ہیں۔پیر صاحب بولے کہ میں تو حیات و ممات کا مسئلہ لیتا ہی نہیں تھا۔ان احمدیوں نے ہی رکھ لیا تھا۔اب ہم نے نماز عصر پڑھنی ہے اس لئے میں آج کے مناظرے کو ختم کرتا ہوں کل آپ کی خبر لوں گا۔کچھ کھا پی کر آنا۔آج آپ نے مجھے بہت شرمندہ کیا ہے۔کل امکان نبوت اور مرزا صاحب کی صداقت پر اکٹھی بحث ہوگی۔سب لوگ چلے گئے۔ہم بھی واپس لوٹ آئے اگلے دن ۱۰ بجے مناظرہ شروع کر کے عصر کے وقت تک رہنا تھا۔