میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 12
80 سے اس عاجز کو مولوی ہی بنا دیا اور اپنی جانب سے علم دے کر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرنے کی برکت سے سینکڑوں مناظرے سکھوں۔آریوں۔سناتن دھرم والوں۔سنیوں۔دیوبندیوں۔عیسائیوں۔بریلویوں۔- - حفیوں اور اہل حدیث سے کئے اور خدا تعالیٰ کی نصرت ہر جگہ شامل حال رہی اور کامیابی ہوئی۔1901ء میں میری والدہ صاحبہ میرے چھوٹے بھائی محمد علی کے کئی بار بیعت" ہمراہ گھر کا کچھ سامان لے کر میرے والد صاحب کے ساتھ پہلے بٹالہ اور پھر قادیان آگئیں اور آکر بیعت کر لی۔میرے والد صاحب میں یہ عادت پائی جاتی تھی کہ جب بھی بازار میں اچھے خربوزے دیکھتے خرید کر والدہ صاحبہ کے ذریعہ حضور کی خدمت میں روانہ کر دیتے جس پر حضور خوشنودی کا اظہار فرماتے۔سکول سے چھٹی کے بعد ہم بیت میں چلے جاتے تھے۔وہاں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بڑی خوش الحانی سے اذان دیتے تھے عصر کی نماز عام طور پر میں بیت مبارک ہی میں ادا کرتا تھا۔عام طور پر حضرت موادی عبد الکریم صاحب ہی امام الصلوۃ ہوتے تھے۔وہاں میں حضرت مسیح موعود کی زیارت بھی کرتا اور باتیں بھی سنتا اور جب کوئی بیعت کرنے والا آتا تو میں بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتا۔میرا اندازہ ہے کہ پچاس سے بھی زیادہ مرتبہ میں نے اس طرح بیعت کی ہوگی۔ہر مرتبہ بیعت کے الفاظ سن کر دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ہمارا گھر اس وقت قادیان میں نید صابر علی شاہ صاحب کے گھر کے پیچھے تھا جو کہ سید چراغ صاحب کے والد تھے۔میرے والد محترم محمد بخش صاحب اہل حدیث تھے اور " چادر کھینچنے کا واقعہ" میرے تایا بھی پہلے اہل حدیث ہی تھے اور بعد ، احمدی ہو گئے تھے۔میرے والد صاحب ہمیشہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی امامت میں ہی جمعہ