میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 141 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 141

129 کہ آج شام تھانے کے عقب والے میدان میں ضرور تقریر ہو گی۔ہم نے میز اور کرسیاں وغیرہ وہاں پہنچا دیں اور ساتھ ہی روشنی کا بھی بہت عمدہ انتظام کیا گیا رات کو میں نے شیخ صاحب کو صدر بنا کر تقریر کا آغاز کیا جس میں بیان کیا کہ دوست اور دشمن کی پہچان نہ کر سکتا قابلیت نہیں ہے۔چونکہ پبلک بہت اکٹھی ہو گئی تھی اس لئے میں نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دوست اس بات پر حیران ہوں گے کہ تقریر ہونے کی اور نہ ہونے کی دو منادیاں کیوں ہوئی ہیں۔ہم نے تقریر ہونے کی منادی کروائی ہے یہ بیان کرنے کے لئے کہ دین حق امن کی تعلیم دیتا اور بدامنی اور بغاوت سے سختی کے ساتھ روکتا ہے۔چوری بھی بغاوت ہے کیونکہ چور بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اخلاق سے عاری ہوتا ہے۔اسی طرح ہر بد معاشی کرنے والا قانون شکن بھی ہوتا ہے اور اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی بھی کر رہا ہوتا ہے۔مگر ہمیں بہت تعجب ہوا کہ اس قسم کی تقریر کو تھانہ والوں نے روکنے کی کوشش کی اور جو چلے حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے جرات کے ساتھ قانون شکنی کرنے کی تحریک جاری کرنے کے لئے کئے گئے انہیں تھانے والوں کا نہ روکنا کچھ منے رکھتا ہے۔اور یہ معنی مکہ صاحب مہاراجہ پٹیالہ کے دربار میں ہی انشاء ہوں گے۔جو تقریریں حکومت کے خلاف ہوتی رہی ہیں ان کے ہم نے نوٹ لئے ہوئے ہیں۔اب تھانے والے میری تقریر کے نوٹ بھی لے سکتے ہیں۔ہماری تقریر کی غرض یہ ہے کہ چوری وغیرہ کی روح کو کچلا جائے تاکہ تھانے والوں کو رات دن بھاگنا نہ پڑے۔تھانے والوں کا کام اس وقت نکلتا ہے جب کہیں واردات ہو جاتی ہے۔یعنی ہم تو بدی کی روح کو کچلتے ہیں اور تھانے والے بدی کرنے کے بعد انہیں پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب اگر تھانے والوں کو بھی یہی غرض ہے کہ وارداتوں میں کمی ہو تو انہیں بھی اس تقریر سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔مگر ایسے جلسہ کو روکنے