میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 132
120 نہیں بلکہ انہیں مٹانے والوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔اگر انہیں اس کا پہلے ہی سے علم ہو تا کہ ہماری یہ مخالفت ہمارے ہی ناموں کو مٹادے گی تو وہ کبھی مخالفت نہ کرتے اور شرافت سے حضور کی تعلیم پر غور کرتے۔جس طرح حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا تھا ان کے نام بھی آج زندہ اور روشن ہوتے۔پھر میں نے درود شریف کے معنے اور تفصیل بیان کی اور انہیں بتایا کہ درود شریف میں یہ پیش گوئی ہے کہ آل ابراہیم والے انعام اب محمد ﷺ کی امت کو ملیں گے اور ساتھ ہی احمدیوں کے عقائد ، بیعت کرنے کی دس شرائط بیان کیں اور لوگوں کو غور کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ان پر واضح کیا کہ انسانی نظر ہر مامور کے زمانہ میں غلطی کھاتی رہی ہے اس لئے دعاؤں سے بہت کام لینا چاہئے۔غرضیکہ دو گھنٹے کی یہ تقریر پر امن ماحول میں ہوئی اور دعا پر جلسہ برخاست ہوا جلسہ کے بعد بعض غیر احمدی دوستوں نے تقریر کی بہت تعریف کی اور مصافحہ بھی کیا۔جو احمدی احباب جلسہ میں شامل نہ ہوئے تھے جب انہیں جلسہ کی کامیابی کا علم ہوا تو بہت افسوس کرنے لگے اور آئندہ کے لئے ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔بعدۂ لدھیانہ کے ہر اس محلہ میں جہاں ہمارا کم از کم ایک احمدی رہتا تھا جلسہ کیا گیا۔حتی کہ مولوی حبیب الرحمان صاحب عرف بو کا کے گھر کے پڑوس والے بابو شیر محمد صاحب کے مکان میں جلسہ کیا اور مولوی صاحب مع اپنی بیوی کے اپنے گھر کے صحن میں بیٹھ کر تقریر سنتے رہے۔وہاں میری تقریر تائید الہی سے بہت جو شیلی اور مقبول ہوئی۔دار البیعت میں بھی جلسہ کیا گیا اور سب جگہوں پر بہت امن سے کامیاب جلسے ہوئے۔لدھیانہ میں تو تمام محلہ جات میں ایک اہل حدیث باباجی کا دلچسپ واقعہ ہمارے جلسے بخیر و خوبی انجام پذیر