میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 127
115 جلسہ میں گڑ بڑ ہو جائے گی۔غرضیکہ سب مسلمان اور سپاہی آگئے اور انہیں روٹی کھلائی گئی۔سپاہی کہنے لگا کہ دوستو یہ سب قادیانی مولوی صاحب کی بہادری ہے کہ ان کا جلسہ کسی قانونی زد میں آئے بغیر نا کام کر دیا۔ہمارے مولویوں میں تو ذرہ برابر بھی جرات نہیں۔اتنی دیر میں گاؤں کے ہندو بھی آگئے اور راجہ صاحب واپس چلتے ہے۔جب مجمع کافی بڑا ہو گیا تو میں نے تقریر کرنا شروع کر دی کہ آریہ مذہب جھوٹ اور زنا کی تعلیم دیتا ہے جب کہ دین حق عورتوں کی عزت کی حفاظت کرتا ہے۔جھوٹ سے تو بڑی تیزی سے دنیا میں بدی پھیل سکتی ہے اور دین حق اس سے سختی کے ساتھ روکتا ہے۔گاؤں کا ایک ہندو اٹھا اور بولا کہ آریہ زنا کی تعلیم دیتے ہیں اس کا کوئی حوالہ دیں۔میں نے جھٹ ستیارتھ پرکاش نکال کر نیوگ کا مسئلہ تفصیل سے بیان کر دیا اور چیلنج کر دیا کہ اگر کوئی آریہ زنا اور نیوگ میں فرق نکال دے تو میں پچاس روپے نقد انعام دونگا۔جھوٹ کے متعلق انہیں منو شاستر سے حوالہ دکھا دیا کہ اپنا مطلب نکالنے کے لئے جھوٹ بولنا گویا سچ بولنا ہے میں نے دونوں حوالے ان کی کتب سے پیش کئے تو وہ آریوں کو گالیاں دینے لگ گیا اور ہندو ٹھا کر بھی نیوگ کا مسئلہ سن کر آریوں کا تمسخر اڑانے لگا۔آریوں کا ایک منشی داس بہت چیخ چیخ کر لیکچر دیا کرتا تھا مگر مناظرہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مناظرہ کرنا تو ایک فن ہے جس میں موقع محل اور پبلک کے جذبات کا خیال رکھ کر بات کہی جاتی ہے۔مجھے یوپی میں آریوں کے ساتھ بے حد مناظرے کرنے کے مواقع میسر آئے لیکن خدا تعالیٰ کی مدد سے کبھی شکست کا سامنا نہ کرنا پڑا۔اور سب اپنے پرائے یہی کہتے رہے کہ بہت حاضر جواب ہیں۔منشی واس مقابلہ پر نہ آیا اور کہنے لگا کہ قادیانیوں کا چوٹی کا مناظر ہے۔غرضیکہ آریوں کو خدا تعالٰی نے ناکام کیا۔ہم سب تیسرے دن نگلہ گھنو واپس آگئے۔میں کافی دیر اسی گاؤں میں ہی رہا۔ان کے لڑکے تیسری جماعت میں داخل ہونے