میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 126 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 126

114 چوتھی یہ بات کہ گورنمنٹ کے قانون کے مطابق کوئی راجہ مذہبی باتوں میں دخل نہیں دے سکتا اور یہ راجہ قانون شکنی کر رہا ہے۔آپ اس سے کہہ دیں کہ قانونا" میں اسے نہیں نکال سکتا۔پھر میں جانوں اور راجہ صاحب جائیں۔اس نے میری بات مان لی اور جا کر یہی جواب دے دیا۔راجہ بہت اونچا سنتا تھا۔سپاہی نے بلند آواز سے کہہ دیا کہ وہ نہیں جاتے اور میں جبرا نہیں نکال سکتا راجہ غصہ سے خود میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ یہاں سے جائیں۔میں نے کہا کہ آپ کس قانون کے تحت مجھے نکال سکتے ہیں۔کہنے لگا کہ یہ ہندوؤں کا جلسہ ہے۔میں نے کہا کہ پھر ہمارے مسلمان بھائی کیوں بٹھائے ہیں۔یہ آریہ ہونے کو بیٹھے ہیں۔میں نے کہا ابھی وہ مسلمان ہیں۔جب وہ آریہ ہو جائیں گے تو میں اسی وقت یہاں سے چلا جاؤں گا اور راجہ صاحب آپ مذہبی باتوں میں دخل نہیں دے سکتے۔آپ گورنمنٹ کے حکم کے خلاف چل رہے ہیں۔اتنی دیر میں مجلس سے اٹھ کر حاکم خان اور فوجدار خان دونوں میرے پاس آئے۔سلام کر کے مصافحہ کیا اور گھوڑی پکڑ لی اور ہم تینوں گاؤں چلے گئے۔راستہ میں وہ کہنے لگے کہ مولوی صاحب ہم نے تو پہلے آپ کو پہچانا ہی نہ تھا ورنہ ہم اسی وقت آجاتے۔یہ سب لوگ میرے واقف تھے اور ان کے رشتہ داروں کے بچے میرے شاگرد تھے۔میں نے کہا کہ یہ کیا میلہ لگا ہوا ہے؟ کہنے لگے کہ یہ سب ظالم خاں ہی کی کھیل ہے۔میں نے کہا کہ کل جان محمد خان صاحب بھیجو خان صاحب نذیر خان صاحب، مهربان خان صاحب وغیرہ سب آئیں گے۔اب آپ ایسا کریں کہ یہاں سے آواز دے کر سب مسلمانوں کو بلا لو اور آریوں سے کہہ دو کہ ہمارے رشتہ داروں نے مولوی بھیجا ہے کہ اگر آریوں کو شوق ہے تو وہ بحث کریں۔پھر جو سچا ہو گا سب اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔انہوں نے سب مسلمان بلا لئے۔آریہ لیکچرار نے راجہ سے کہا کہ میں نے بتایا تھا کہ اب