میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 103 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 103

91 کچھ بھی ہو جائے۔اس نے دیو بندی فرقہ کے لوگوں کو بھی بے نطق سنائیں کہ یہ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں مگر مولوی ڈھیٹ ہو کر سب سنتا گیا۔اس نے بھی مهدی حسن صاحب کا پوچھا میں نے بتایا۔اس کا اس پر بہت اچھا اثر ہوا۔حضرت مسیح موعود کی برکت سے اللہ علماء دیو بند کا آریوں سے مناظرہ تعالٰی ہر میدان میں فتح دیتا تھا۔ایک دفعہ میں نے سنا کہ علی گنج تحصیل میں رانی کے رامپور میں دیو بندی اور آریہ مناظرہ کر رہے ہیں۔مناظرہ کے دن میں وہاں پہنچ گیا۔مجھ سے قبل وہاں تین مولوی صاحبان بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی سرور حسین صاحب دیو بندی دوسرے مولوی امام الدین صاحب سیالکوئی خدام صوفیہ اور تیسرے ایک بریلوی مولوی تھے چوتھا ایک احمدی مولوی وہاں پہنچ گیا۔ہمارے گاؤں کے دو تین ملکانے بھی میرے ہمراہ تھے مناظرہ شروع ہونے میں دو گھنٹے باقی تھے اور یہ تینوں مولوی بڑی گرمجوشی سے آپس میں اختلافی مسائل پر بحث کر رہے تھے اور ایک دوسرے پر پل پڑنے کو تیار تھے۔میں نے بڑی حکمت عملی سے انہیں سمجھایا کہ اس وقت کفر و اسلام کی بحث ہونے والی ہے آپ کوئی تیاری کریں کیونکہ مقابلہ پر جو آریہ آیا ہوا ہے وہ بہت ہوشیار اور پھکڑ ہے۔آپ آپس میں الجھ رہے ہیں کتنے افسوس کی بات ہے۔سرور حسین نے مجھے بتایا کہ مولانا کام بہت خراب ہو گیا ہے۔ہمارے مولوی بدرالحسن صاحب نے دیو بند سے تار دے دیا ہے کہ کوئی اور مولوی سکول سے فارغ نہیں ہے۔میں نے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر پیچش کے باعث سخت بیمار ہوں اس لئے نہیں آسکتا۔اب بڑی تشویش میں ہوں کہ کیا کیا جائے۔میں نے کہا تبھی آپس میں جھگڑا شروع کیا ہوا تھا اب اگر آپ کی طرف سے کوئی مناظر کھڑا نہ ہوا تو ملکانوں پر کیا اثر پڑے گا اور آریہ کتنے خوش ہوں گے میں نے دوسرے مولوی صاحبان سے کہا کہ اب کیا