میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 45 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 45

35 یا مناظرہ کوئی آدمی اکیلا نہیں کر سکتا۔پھر اس نے پوچھا کیا اکیلا آدمی مناظرہ نہیں کر سکتا؟ میں نے جواب دیا صاحب ہر گز نہیں کر سکتا۔صاحب سوچنے لگ گیا۔اتنی دیر میں ایک آریہ نوجوان کلرک آپہنچا جس سے میری کئی بار گفتگو ہو چکی تھی۔صاحب نے پوچھا کہ بحث کس طرح کرتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ دو مولوی یا دو پنڈت یا دو پادری اپنی اپنی بات کچی ثابت کرنے کے لئے دلائل دیتے ہیں اور لوگ سنتے ہیں۔صاحب بولے کیا دو آدمی بحث کرتے ہیں۔آریہ بولا جی ہاں۔صاحب نے درخواست دہندہ افراد کو جو میری سزا کے منتظر بیٹھے تھے بلایا اور پوچھا کہ دوسرا مولوی کہاں ہے۔وہ خاموش رہے۔اس پر صاحب نے انہیں انگلش میں برا بھلا کہا اور ساتھ ہی دو دو تین تین ہنٹر بھی لگائے۔1919ء میں حکومت پنجاب انگریز کمانڈر سے گائے کی قربانی کی اجازت نے جھٹکا کرنے والے سکھ ہمارے پاس بھیجوا دیئے اور انہوں نے مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے سے انکار کر دیا اور اپنا علیحدہ جھٹکا کرنا شروع کر دیا۔اس بات پر مسلمان بہت مشتعل ہوئے کیونکہ اس سے قبل سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کو اکٹھا ہی حکومت کی طرف سے گوشت ملتا تھا۔مگر نئی بھرتی میں آنے والے سکھوں نے اپنے بکرے علیحدہ جھٹکا کرنا شروع کر دیئے لہذا جب انہوں نے ایسا کرنا شروع کیا تو مسلمانوں نے یہ پروگرام بنایا کہ یا تو سکھوں کو قتل کر دینا چاہئے یا ان کا جھٹکا سختی سے بند کر دینا چاہئے۔کارخانہ چونکہ دن رات چتا تھا اس لئے مسلمانوں نے بہت جلد چھرے ، چاقو اور بلم جیسے ہتھیار تیار کرلئے۔معزز لوگوں کو اس آمدہ ہنگامہ کے متعلق علم ہوا تو انہوں نے خفیہ طور پر سیٹنگ کی اور یہ طے پایا کہ احمدی مولوی کو بھی اس میٹنگ میں ضرور شامل کرنا چاہئے۔چنانچہ سب نے فوری طور پر مستری تھے خاں صاحب کو جو بمبئی کے قریب