میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 26 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 26

20 20 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات اور مولوی محمد علی صاحب کا فتنہ ۱۳ مارچ ۱۹۴۷ء بروز جمعتہ المبارک بوقت دو بجے حضرت خلیفہ اول کا نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی میں وصال ہوا۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے جھگڑا پیدا کر دیا کہ اب خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اور انجمن ہی خلیفہ ہے وبس۔حالانکہ آپ آپ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو پہلے خلیفہ مان کر بیعت کر چکے تھے مگر آپ کی خلافت کے دوران ہی 1909ء میں مولوی صاحب موصوف نے چہ میگوئیاں شروع کر دی تھیں۔اس کی تفاصیل "الحکم" اور "البدر اکتوبر 1909 ء اور 1986ء میں چھپے ہوئے خطبات حضرت خلیفہ اول میں موجود ہیں۔غرضیکہ اس وقت بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گیا اور جماعت میں اضطراب پھیل گیا۔اس سے قبل ایسا اضطراب سیدنا حضرت مسیح موعود کی وفات پر ہی دیکھنے میں آیا تھا۔اسی دن مغرب کے وقت اعلان کیا گیا کہ تمام مرد و زن صبح ہفتہ کے دن روزہ رکھیں اور دعاؤں پر زور دیں تا اللہ تعالی ہماری نصرت فرما کر انشرح صدر پیدا کر دے کہ کون خلیفہ ہو۔تمام مرد و زن نے ہفتہ کے روز روزہ رکھا اور ظہر کی نماز بیت نور میں حضرت میاں محمود احمد صاحب نے پڑھائی وہ ایک بے نظیر نماز تھی کہ بیت نور کی چھت پر مومنوں کی گریہ و زاری سے فرشتے بھی آمین کہہ رہے ہوں گے۔دعاؤں سے بیت کے درو دیوار بن گئے۔نماز کے بعد وہیں تقاریر ہو ئیں اور سید نا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا انتخاب ہوا۔تمام جماعت نے متفقہ طور پر آپ کو خلیفتہ المسیح الثانی تسلیم کیا اور ساری جماعت نے بخوشی بیعت کرلی سوائے مولوی محمد علی صاحب و ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ وغیرہ۔غالبا یہ سات نفوس ایسے تھے جو بیت نور میں الگ ایک کونے میں بیٹھے