میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 169 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 169

157 کہنے کے لئے وہ تین میل تک ہمارے ساتھ گیا۔دن کے نو بجے ہم دھوڑیاں پہنچے وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میاں صلاح الدین کلا بن گیا ہوا ہے کیونکہ آج مناظرہ کا دن ہے اور مولوی صاحب پیسے مانگتے ہیں۔ہم اسی وقت آگے چل پڑے۔ایک میل چل کر ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو وہاں ہمیں کسی احمدی دوست نے دیکھ لیا۔اس نے شور مچا دیا کہ مبلغ صاحب تشریف لے آئے ہیں۔کافی تعداد میں احمدی احباب وہاں اکٹھے تھے سب استقبال کے لئے آگے بڑھے۔جب ہم میدان مناظرہ میں پہنچے تو احمدی احباب تو بہت خوشی محسوس کر رہے تھے جب کہ غیر احمدی احباب بہت حیران ہو رہے تھے کہ یہ اتنا لمبا پیدل سفر کر کے کیسے پہنچ گئے ہیں۔بعد میں احمدی اور غیر احمدی سب احباب سے مصافحہ ہوا۔میں نے مولوی عزیز اللہ صاحب کو مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے بلایا۔وہ آگئے اور ہم نے شرائط تحریر کر کے فریقین کو دے دیں۔ذیلدار صاحب کہنے لگے کہ مولوی صاحب چونکہ اس مناظرے کو سننے والے کافی شوقین حضرات ہیں اس لئے اگر یہ کوٹلی میں نمبردار عبد اللہ خانصاحب کے مکان پر ہو تو بہتر ہو سکتا ہے۔کسی اور جگہ اتنی پلک بیٹھ بھی نہیں سکے گی۔میں نے کہا بہت اچھا آپ ان سے امن کی ذمہ داری لے لیں۔انہوں نے ہمیں امن کی ذمہ داری بھی لے دی اور تحریر لکھ کر بھی دے دیا۔ہم اگلے دن وہاں پہنچ گئے۔اس مناظرے کا وقت تین دن تھا۔پہلے دن وقالت مسیح، دوسرے دن امکان نبوت اور تیسرے دن صداقت حضرت مسیح موعود پر مناظرے ہوئے تھے۔غرضیکہ تین دن بڑے پر امن طریق پر مناظرہ جات ہوئے۔تیسرے ون مناظرہ میں یہ اصول مقرر کر دیا کہ آج چونکہ آپ نے حضرت مسیح موعود کی کتب پر اعتراض ہی کرتے ہیں اس لئے جو اعتراض کفار نے رسول کریم پر اور دیگر انبیاء پر کئے تھے وہ نہیں کئے جائیں گے۔ان کے جوابات تو قرآن مجید میں