مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 24
امیر شریعت احرار کے مندرجہ بالا نظریات و خیالات سے اسلام، پاکستان ر مسلمانان پاکستان کی دشمنی، عداوت اور بغض و عناد کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔لہذا مولوی چنیوٹی ہو یا کوئی اور اسلام دشمن کانگریس کے پالتو ”مولاناؤں“ اور گماشتوں کی معنوی ذریت کو پاکستان میں رہنے اور ختم نبوت“، ”اسلام “ یا ”قرآن“ کی آڑ میں فتنہ بپا کرنے کا کوئی جواز نہیں خصوصاً اس لئے کہ احرار ی شریعت کے امیر عطاء اللہ بخاری ایک طرف یہ واضح کر چکے ہیں کہ :- ہم نام نہاد اکثریت کی تابعداری نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت باطل پر ہے“ زمزم لاہور۔۳۰ ر اپریل ۱۹۳۹ء) دوسری طرف اُن کا یہ بیان موجود ہے کہ : پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبور اقبول کیا ہے“۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۱۹۵۳ ءار دو صفحه ۲۷۵) 24