مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 23
عطاء اللہ شاہ بخاری کے نزدیک ان ہندو لیڈروں کا مقام روحانی اور عظمت آسمانی اس سے بھی بہت بلند ہے۔چنانچہ اخبار ”ذوالفقار “ (۱۶/ اپریل ۱۹۲۱ء) لکھتا ہے کہ عطاء اللہ بخاری نے ۲۵ مارچ ۱۹۲۱ء کی تقریر مسجد خیر دین امر تسر میں بیان کیا کہ ” میں مسٹر گاندھی کو نبی بالقوہ مانتا ہوں“۔(بحوالہ زجاجہ صفحه ۱۴۰ از سید طفیل محمد شاه) اسی طرح ۱۹۲۱ء میں انہوں نے امر تسر ہی میں یہ تقریر کی کہ :- بلا تشبیہ اور بے تمثیل مہاتما کا میم اور موسیٰ کا میم برابر ہے“ ( مقدمات امیر شریعۃ صفحہ ۲۸،۲۷۔ناشر مکتبہ احرار الاسلام ملتان۔اشاعت اپریل ۱۹۶۹ء ) ۱۳ جنوری ۱۹۳۹ء کا واقعہ ہے کہ مسجد وزیر خاں لاہور میں ایک جلسہ عام کے دوران مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر ”زمیندار“ نے عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے کانگریسی و احراری مولویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا:۔علماء خدا کو چھوڑ کر پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں جو خدا کو نہیں مانتا اور لامذ ہب ہے۔“ ( روزنامہ ” نیشنل کانگریں“ لاہور ۵ار جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۸) کانگریس کے پالتو مولانا اور ان کی معنوی ذریت انہی ایام میں دہلی دروازہ لاہور میں آل پنجاب مسلم سٹوڈنٹس کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں بخاری صاحب نے پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کی۔چنانچہ اخبار ملاپ ۲۷ جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ ۲ پر لکھا ہے:۔/ ” مولانا نے۔۔۔مسلم لیگیوں کو آڑے ہا تھ لیا۔پاکستان کی سکیم کا خوب مذاق اڑایا آپ نے پاکستان کی سکیم کا خوب مضحکہ اڑایا۔آپ نے پاکستان کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ جو لوگ اس کے حامی ہیں وہ ملک سے نکل جائیں“۔23