مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 22
غلسیانوں میں“۔مولوی مظہر علی اظہر جنرل سیکرٹری مجلس احرار قائد اعظم کو کافر اعظم“ کے نام سے پکارتے تھے۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت پنجاب ۱۹۵۳ء کے فاضل حج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے :- چونکہ قائد اعظم روشن خیال آدمی تھے۔اس لئے احرار نے اُن کی اس خصوصیت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں کافر کہنا شروع کر دیا۔یہ شعر مولانا مظہر علی اظہر سے منسوب ہے جو تنظیم احرار میں ایک ممتاز شخصیت ہیں۔اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا یہ قائد اعظم ہے کہ کافر اعظم مولانا مظہر علی اظہر نے ہمارے سامنے نہایت خیرہ چشمی سے یہ اظہار کیا کہ ( قائد اعظم کے متعلق ) وہ اب تک اسی خیال پر قائم ہیں۔(اردور پورٹ صفحہ ۱۱) پس یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان ، قائد اعظم اور اہل پاکستان کی مخالفت کی آگ میں جل رہے ہیں۔قائد اعظم کو کافر اعظم اور پاکستان کو پاکی استان اور پلیدستان کا نام دیتے ہیں۔احراری لیڈر شیخ حسام الدین بی۔اے کے خطبہ صدارت میں یہاں تک موجود ہے کہ : ایسے پاکستان کو ہم پلیدستان سمجھتے ہیں۔اسلام کے باغی پاکستان سے ہم ہندو ہندوستان کو پسند کریں گے پس اگر محمد علی جناح اسلام۔کے اقتصادی اور سیاسی نظام کے خلاف کسی سرمایہ داری کے نظام کو چلائے تو نفع کیا؟ اگر جواہر لعل اور گاندھی خلفائے راشدین کی پیروی میں نا برابری کے سارے نقوش کو مٹائے چلے جائیں تو بطور مسلمان کے ہمیں نقصان کیا ؟“۔تاریخ احرار صفحه ۲۰ از مفکر احرار چوہدری افضل حق ناشر مکتبہ مجلس احرار پاکستان لاہور، ملتان، اشاعت مارچ ۱۹۶۸ء) 22