مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 20 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 20

فرماتے ہیں:۔پاکستان کی روز بروز کی گرتی ہوئی حالت میں میرے دل کو سہارا مل رہا ہے عالم بیدار ہی میں ایک مشاہدہ سے۔ابھی تقسیم ملک کا معاملہ گونگو میں تھا کہ میں نوافل تہجد کے بعد تخت پر آنکھیں بند کئے ہوئے ذکر میں مشغول تھا۔جاگ رہا تھا اونگھ بھی نہیں رہا تھا۔دیکھا کہ لفظ خدا موٹے حروف میں چاند کی رنگت میں آسمان سے نازل ہو کر دریائے چناب کے پانی پر اتر گیا۔میرا گھر تھا چناب سے تین سو میل مشرق میں کیتھل ضلع کرنال۔“ (رسالہ فیض الاسلام راولپنڈی اپریل ۱۹۷۵ء صفحه ۲۳) جناب ظفر ندوی صاحب اس سے آگے اس خواب یا کشف سے یوں استدلال فرماتے ہیں کہ :- " راقم نے چاند کی روشنائی میں اسم خدا کو آسمان سے آب چناب پر اتر تا دیکھا تو میں اسے پاکستان کے حق میں بشارت کیوں نہ باور کروں؟ مجھے یاد ہے کہ مجھے یہ صبح صادق کے قریب یا کچھ بعد نظر آیا تھا۔“ (رسالہ فیض الاسلام راولپنڈی اپریل ۱۹۷۵ء صفحه ۲۳) ہمارے نزدیک جناب ظفر ندوی صاحب کا یہ رویا یقینا سچا ہے اور اس کو پاکستان کے حق میں بھی بالواسطہ بشارت باور کرنا چاہئیے مگر اس سے بھی بڑھ کر اور براہ راست یہ رویا جماعت احمدیہ کی صداقت پر ایک روشن دلیل ہے۔۴۷۔۱۹۴۶ء میں ندوی صاحب کو دکھایا جاتا ہے کہ دریائے چناب کے پانی پر اسم خدا چاند کے نور کے رنگ میں نازل ہوا ہے۔جب پاکستان کا قیام ہوا اور ملک تقسیم ہوا تو صرف ایک دینی جماعت یعنی جماعت احمدیہ کا مرکز دریائے چناب کے کنارے قائم ہوا۔اسی جماعت نے بچے معنوں میں ہجرت کر کے بے آب و گیاہ بنجر میں دریائے چناب کے کنارے نزول کیا۔اور اس جگہ سے اسلام کے نور کو اکناف عالم میں پھیلانا 20