مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 13 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 13

جو پاکستان میں موجود ہے“۔(صفحه ۳) ضیاء صاحب خدا کی قہری تجلی کا شکار ہو گئے تو چنیوٹی نے اشرفی آفسیٹ پریس لائل پور سے ایک دو ورقہ شائع کیا جس کا نام تھا ربوہ کا نام فی الفور تبدیل کرو“۔اس اشتعال انگیز ہینڈ بل میں انہوں نے وزیر اعظم و ممبران قومی و صوبائی اسمبلی حکومت سے ربوہ کا نام بدلنے کا مطالبہ کیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ آیت قرآنی و اوینهما الى ربوة۔(المومن :۵۱) میں ربوہ کا لفظ موجود ہے۔اس نام کی آڑ میں دراصل مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں جب قرآن پاک کی اس آیت کو پڑھیں تو ربوہ کا مصداق سوائے اس کے کہ ربوہ ضلع جھنگ کا ایک شہر ہے جو چناب کے قریب ہے اور کوئی نہو اس لحاظ سے یہ ایک صاف اور صریح قرآنی تحریف ہے"۔بانی ربوہ کا ترجمہ آیت اور ا(صفحه ۳) دوسوسالہ مترجمین کی طرف سے اس کی تائید حق یہ ہے کہ جس طرح چنیوٹی صاحب نے وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی کے سامنے کمال بے شرمی اور بے حجابی سے یہ سفید جھوٹ بولا کہ احمدی اپنے عالمی مرکز۔ربوہ۔کو مکہ اور مدینہ سے زیادہ مقدس سمجھتے ہیں۔بالکل اسی طرح یہ محض دجل اور فریب ہے کہ احمدیوں کا نعوذ باللہ یہ عقیدہ ہے کہ ربوہ سورہ المومنون میں مذکور ربوہ کا مصداق ہے یا اس کا مصداق ثابت کرنے کے لئے یہ نام تجویز کیا گیا ہے۔عربی زبان میں بلند جگہ یا ٹیلہ کو ربوہ کہا جاتا ہے۔(دیکھئے مفردات امام راغب ) خود قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔(ملاحظہ ہو البقرہ:۲۹۶) 13