مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 11
تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کارل مارکس اور عطاءاللہ بخاری کے ” عمومی خدوخال ہر صفاتی بعد کے باوجود ایک سے ہیں“۔(سید عطاء اللہ شاہ بخاری، صفحہ ۱۳، ۱۴) خود بخار کی صاحب کا کہنا ہے کہ : میں سر سے پاؤں تک سیاسی آدمی ہوں“۔سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه (۹۱) اب ظاہر ہے کہ سیاست میں جھوٹا پراپیگنڈہ اور حریفوں کو رسوا کرنا بلکہ گالیاں تک دینا سبھی روا بلکہ ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ سبھی احراری ملا اخباری پراپیگنڈہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔شورش صاحب عطاء اللہ بخاری کا ذکر کر کے رقمطراز ہیں کہ : ان کا عقیدہ ہے کہ اخباروں نے آغاز سے اب تک بڑے بڑے جھوٹ گھڑے ہیں اگر اس جھوٹ کا بوجھ ماؤنٹ ایورسٹ پر پڑتا تو وہ بھی زمین میں دھنس چکی ہوتی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۸ از شورش کا شمیری ناشر مکتبہ چٹان اور ستمبر ۱۹۵۷ء) جہاں تک دوسروں کو گالیاں دینے کا تعلق ہے شورش صاحب نے ”امیر شریعت احرار کا ایک مفصل واقعہ بیان کر کے یہ اسوہ پیش کیا ہے کہ : "شاہ جی اتنے غصے میں آئے کہ مادر و خواہر کی مغلظات تک سنادیں“۔شہر ربوہ کا نام بدلنے کا مطالبہ (ایضاً صفحہ اے) منظور چنیوٹی کو اسلام کے نام پر اپنی سیاسی دکان چمکانے کا ایک سنہری موقعہ اس وقت ہاتھ آیا جب ضیاء الحق جیسا فرعون وقت جو اپنے تئیں ” قادر مطلق سمجھتا تھا بر سر اقتدار آیا اور اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے نفاذ اسلام کا سیاسی 11