مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 10
احراری مذہب منظور چنیوٹی کے اینٹی احراری گروپ کی یہ تقریریں انتہائی دلچسپ بھی ہیں اور حد درجہ مغالطہ انگیز بھی ! اس لئے کہ اسلام کے نام کو اپنی اغراض کے لئے استعمال کرنے کا دوسرا نام ہی احراری مذہب ہے۔اور اس حمام میں یہ سبھی ننگے ہیں۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار اپنی کتاب ”تاریخ احرار“ صفحه ۱۲۲ طبع دوم میں تحریر فرماتے ہیں: ہم لوگ تو سچ پوچھو اسلام کو اپنی اغراض کے لئے استعمال کرتے ہیں۔خود اسلام کے لئے استعمال ہونا نہیں جانتے“۔اسی کتاب میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ احرار جو بظاہر اسلام کا نام لیتے اور اسی نام سے اپنی مطلب براری کرتے ہیں پنڈت نہرو کی طرح در پردہ سوشلسٹ ہیں۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ : لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی دلدل میں پھنس گئے۔یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو یہ نکلیں گے ؟ مگر یہ کون لوگ ہیں۔وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں اسلئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیر داری کی درد ناک کہانی ہے۔کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے تاکہ انسانیت کی چاک دامانی کار فوکر سکے۔اس کے پاس کارل مارکس کے سائنٹیفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے۔تاریخ احرار صفحہ ۷۶ اطبع دوم ناشر مکتبہ مجلس احرار اسلام۔لاہور، ملتان (۱۹۶۸ء) شورش کا شمیری جیسا احراری لیڈر اس ضمن میں اپنے قریبی مشاہدات کی بنا پر 10