مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 14
بانی ربوہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس سر زمین کو اپنے ماحول سے بلند ومر تفع ہونے کے باعث ہی اسے ربوہ سے موسوم فرمایا جو حضور کے بلند پایہ ذوق عربی اور نکتہ نوازی کا عکاس ہے۔اور اس کا فیصلہ کن اور بالکل واضح دستاویزی ثبوت یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے سورہ المومنون کی آیت ۵۱ کا ترجمہ ” تفسیر صغیر “ میں بایں الفاظ فرمایا ہے کہ : ”ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر بنا دی جو ٹھہر نے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی“۔اگر حضور اس آیت کا مصداق ربوہ شہر کو سمجھتے تو اول تو یہ ترجمہ نہ کرتے دوسرے اس مسلک کی تائید میں اس ترجمہ کے حاشیہ میں ربوہ شہر کا تذکرہ فرماتے مگر ایسا کوئی نوٹ آپ کے قلم سے موجود نہیں ہے۔اب مجھے اس حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے لفظ ربوہ کا جو ترجمہ کیا ہے بر صغیر پاک و ہند کے علماء دو صدیوں سے اس کے موافق ترجمہ کرتے آرہے ہیں ان علماء میں سنی، دیو بندی، بریلوی، مودودی اور اہل تشیع غرضیکہ مکتب فکر کے علماء شامل ہیں۔ذیل میں بطور نمونہ چند اردو تراجم کا تذکرہ ہر کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔( حضرت شاہ رفیع الدین صاحب)۔جاگہ دی ہم نے اون دونوں کو طرف زمین بلند کے “۔( ترجمه قرآن شائع کردہ شیخ غلام علی لاہور مارچ ۱۹۲۳ء) ( حضرت شاہ عبد القادر صاحب)۔ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلہ پر “۔پانچ تر جموں والا قرآن مجید ناشر سید محمد شفیع الدین مالک اقبال پر ننگ در کس دیلی۔۱۵ / فروری ۱۹۳۷ء) شمس العلماء حافظ نذیر احمد صاحب دہلوی)۔ان دونوں کو ایک اونچی جگہ 14