مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 12 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 12

ڈھونگ رچایا۔چنانچہ چنیوٹی صاحب نے ۱۴ر فروری ۱۹۷۹ کو ” چند اہم گزارشات“ کے نام پر ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی طرف سے ایک دو ورقہ شائع کیا جس کے آغاز میں اس امر مطلق کے حضور مندرجہ ذیل الفاظ میں ہدیہ تبریک اور خراج تحسین پیش کیا: اس ملک کو لا تعداد قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا تاکہ یہاں پر اسلام کا ضابطہ حیات نافذ کیا جاسکے۔اور مسلمان قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔قوم کافی عرصہ سے چشم براہ تھی کہ یہ یوم سعید کب آتا ہے اور نظام مصطفی کو نافذ کرنے کی سعادت کس کے حصہ میں آتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سعادت کے لئے منتخب فرمایا اور یہ عظیم اور تاریخی کام آپ سے لیا۔ایں سعادت بزور بازو نیست، تا نه بخشد خدائے بخشنده آپ نے ۱۲؍ ربیع الاول کو اسلامی نظام کے نفاذ کا جو اعلان کیا ہے وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا اور دیگر اسلامی ممالک کے سربراہان کے لئے قابل تقلید نمونہ ہو گا۔میں آپ کو اس ایمان افروز اعلان پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں“۔اس سجدہ تعظیمی " کے بعد چنیوٹی نے احمدیوں کے خلاف پانچ مطالبات بغرض منظوری پیش کئے جن میں تیسرا مطالبہ مرکز احمدیت ، ربوہ کے نام کی فوری تبدیلی کا تھا جو درج ذیل الفاظ میں تھا قادیانیوں نے قرآن کریم میں ایک خطرناک معنوی تحریف کرتے ہوئے اپنے عالمی مرکز کا نام ربوہ رکھا ہے اور وہ یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن کریم کے پارہ نمبر ۱۸ آیت نمبر ۵۰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے ذکر میں جو ربوہ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد یہی ربوہ ہے 12