حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 35 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 35

بنوں مجھے شرم آتی ہے۔38 (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ ستمبر 1977 ء ص 14) بطور داروغه ایک دفعہ حضور نے فرمایا مولوی صاحب آپ کو جہلم سے بہت محبت ہے اسے آپ چھوڑنا پسند نہیں کرتے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے لئے وہ جیلیں ہے یعنی وہ جیل خانہ ہے، جس سے آپ نکل نہیں سکتے۔عرض کیا حضور سچ فرماتے ہیں۔ہے تو وہ جیل مگر حضور جیل میں داروغہ بھی ہوا کرتے ہیں۔حضور دعا فرما ئیں مجھے مولا کریم وہاں بطور داروغہ رکھے۔نڈر انسان (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ۔ستمبر 1977 ء ص 14) حضرت مولانا برہان الدین جہلمی صاحب کچی گواہی دینے سے ہرگز نہ گھبراتے تھے۔ایک دفعہ جہلم شہر کا ایک آدمی فوت ہو گیا۔ان دنوں ڈاکٹر کم ہوتے تھے۔اکثر لوگ حکیموں کو بلاتے تھے۔آپ کو لوگ بلا کر لے گئے۔آپ نے دیکھتے ہی کہا یہ آدمی ہیضہ سے ہر گز فوت نہیں ہوا۔اسے کھانے میں زہر ملا کر دیا گیا ہے، کیونکہ کمرے میں ایک خاص قسم کے زہر کی بو آ رہی تھی۔پھر اس شخص کی نشان دہی کی جس نے زہر دیا تھا۔جب اس آدمی کا پوسٹ مارٹم ہوا، تو اس زہر کا پتہ چلا۔بعد میں زہر دینے والا شخص پکڑا گیا۔جس کی نشان دہی کی تھی۔لوگوں نے مولوی صاحب کو کہا آپ نے جس شخص کے خلاف گواہی دی ہے وہ بہت سخت ہے۔کہ رہا ہے جب میں قید سے چھوٹ کر آؤں گا تو مولوی برہان الدین کی خبر لوں گا۔آپ نے یہ سن کر کہا کہ قید سے چھوٹ کر آئے گا تو خبر لے گا۔چند دنوں کے بعد فیصلہ ہو گیا اور اس شخص کو پھانسی کی سزا