حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 23
26 السلام جذام اور کوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہیں۔حضور نے جہاں قیام فرمایا تھا وہاں بکثرت لوگ حضور کی زیارت کے لئے آئے۔لوگوں کا اصرار بڑھتا جارہا تھا کہ وہ حضور کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔حکام کی درخواست پر حضور باہر آ کر کرسی نشین ہوئے ، تو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بات چونکہ جہلم کے علاقہ میں بھی بکثرت پھیلائی گئی تھی اس لئے حضرت مولوی برہان الدین صاحب نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور جوں ہی حضور کرسی پر رونق افروز ہوئے انہوں نے حضرت اقدس کی آستینیں اٹھا کر لوگوں کو بازو اور پاؤں دکھائے اور کہا کہ دیکھ لو دشمن جھوٹ بولتا تھا کہ اس مقدس انسان کے ہاتھ اور پاؤں پر معاذ اللہ کی بیماری کے نشان ہیں۔“ تاریخ احمدیت جلد 2 ایڈیشن 2007 ء ص 266) اس طرح مخالفین کا پراپیگنڈا اور افواہیں غلط ثابت ہوئیں اور حضور کی ذات اقدس پر کئے گئے اعتراضات کا ازالہ ہوا۔وفات آپ رمضان شریف کو 20 / تاریخ (بمطابق 19 نومبر 1905ء) کو اعتکاف میں بیٹھے، اعتکاف کے ایام میں قرآن شریف کا ان کو پہلے سے بھی زیادہ شغف ہو گیا اور دن رات قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔اعتکاف میں یہ الہام ہوا:۔إِنَّا كَفَّيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ کہ ہم استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔اور بعد اس کے ایک اور الہام ہوا جس کا خلاصہ یہ تھا امام الوقت تو ایک طرف اب تو ان کے مریدوں کو بھی الہام ہونے لگے۔پھر ہم اس بچے سلسلہ کی تائید کیوں نہ کریں؟“ ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم ص 411 ایڈیشن 2007ء)