حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 29
32 جھڈو کا جھڑ وہی رہا حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی دعوت الی اللہ و اشاعت دین میں ہر وقت منہمک رہتے تھے لیکن پھر بھی آپ کو ہر وقت یہ خلش رہتی تھی کہ ابھی میں نے کچھ نہیں کیا۔آپ کی زندگی کا اس قسم کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نَورَ اللهُ مَرْقَدَہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام مسجد میں بیٹھے تھے اور آپ روحانی معارف بیان فرمارہے تھے۔حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دوسرے دوست بھی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی برہان الدین صاحب نے چیچنیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا مولوی صاحب کیا بات ہے۔لیکن آپ جتنا پوچھتے آپ اتنا ہی زیادہ زور سے رونے لگ جاتے۔آخر بار بار پوچھنے اور تسلی دلانے پر مولوی برہان الدین صاحب نے کہا حضور لوگ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ مسیح آئیگا دنیا میں روحانی معارف لٹائے گا اور ہم اس پر ایمان لاکر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے ہم ان امیدوں کے ساتھ انتظار میں تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ہم ہر قسم کی قربانیاں کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرینگے کہ خدا تعالیٰ کا مسیح آگیا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایمان لانے کی توفیق عطا فر مادی لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اسلام کے لئے قربان کرسکوں۔حالانکہ وہ غریب ہی اس لئے ہوئے تھے کہ وہ احمدی ہو گئے تھے۔پھر کہنے لگے ہم سنا کرتے تھے کہ مسیح آئے گا تو خزانے لٹائے گا۔اور آپ نے خوب خزانے لٹائے مگر میں تو پھر بھی جھڈو کا جھڈو ہی رہا۔جھڈو کے لفظی معنی تو مجھے نہیں آتے لیکن اس کا