حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 25 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 25

28 شہتیر ٹوٹ جائیں گے“ اس میں آپ کو شہتیر قرار دیا گیا تھا۔ایک شہتیر آپ تھے اور دوسرے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔آپ کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیر معمولی صدمہ کا اظہار کیا۔اخبار بدر 18 دسمبر 1905ء صفحہ 7 پر آپ کے اوصاف و شمائل سے متعلق حسب ذیل مختصر مگر جامع شذرہ شامل اشاعت ہوا۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب ساکن جہلم جو حضرت کے پرانے خادم ایک عالم باعمل اور متقی شخص تھے اور جماعت جہلم کے امام تھے۔اس جہان فانی کو چھوڑ کر عالم بقاء کو چلے گئے۔مولوی صاحب موصوف سچے اخلاص اور محبت سے بھرے ہوئے تھے۔علم مناظرہ اور مباحثہ میں خدا تعالیٰ نے ان کو خاص پر اثر طرز عطا فرمایا تھا۔زمانہ تصنیف براہین احمدیہ سے وہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔مولوی صاحب مرحوم نے 3 دسمبر 1905 ء کو بروز اتوار صبح کے وقت وفات پائی اور شام کو چار بجے کے قریب جہلم میں مدفون ہوئے۔ان آخری ایام میں آپ قرآن شریف بہت پڑھا کرتے تھے۔رمضان شریف میں نمازوں میں اس قدر قرآن شریف پڑھتے تھے کہ مقتدی تھک جاتے تھے اور دن کو اور رات کو علیحدگی میں قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔آخری دنوں میں دو تین دفعہ بخار ہوا۔جمعہ اور عید کی نمازوں میں شامل تھے۔اس رمضان شریف میں اعتکاف بھی بیٹھے تھے اور ایام اعتکاف میں اپنے دو الہام سنائے تھے (ایک یہ کہ انا كفيناك المستهزئين اور دوسرا ایک الہام تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ امام الوقت کے مریدوں کو بھی الہام ہونے لگے ہیں۔آخر تک قرآن شریف