حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 24
27 عید کا چاند دیکھنے پر اعتکاف مکمل ہوا۔اور آپ گھر تشریف لے آئے اور پھر عشاء کی نماز کے لئے چلے گئے۔اسی رات آپ کو بخار ہوا۔صبح کے وقت طبیعت کچھ سنبھلی تو عید کی نماز ادا کی۔آپ کو دوبارہ بخار ہو گیا۔بیماری کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہے۔ایک روز صبح کی نماز کے بعد فرمانے لگے کہ دونوں دروازے کھولو کہ مجھے انتظار ہے۔پوچھا گیا کہ کس کا؟ آپ خاموش رہے۔آپ درود شریف کا ورد کرتے رہے اور نو بجے کے قریب آپ اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔اس طرح آپ 3 / دسمبر 1905ء کو جہلم میں چند دن کی علالت کے بعد وفات پاگئے۔چار بجے شام آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور جہلم کے مقامی قبرستان میں تدفین ہوئی۔8 دسمبر 1905ء کو حضور نے قادیان میں اپنے احباب سمیت نماز جنازہ غائب پڑھی اور دیر تک دعائے مغفرت کرتے رہے۔حضور نے حاضرین کو وہ خط بھی پڑھ کر سنایا جو آپ کے فرزند حضرت مولوی عبد المغنی صاحب نے وفات کی اطلاع کے سلسلہ میں لکھا تھا۔آپ نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس بچے کولکھ دو کہ ہم ہر طرح سے اس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔اسے چاہئے کہ وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلے اور ان کے علوم دینیہ اور اخلاق اور عادات کو حاصل کرے۔علوم کے حاصل کرنے کے لئے خواہ وہ یہاں آجاوے۔بہر حال یہ ضروری امر ہے کہ وہ بہت سعی کرے۔“ (الحکم 17 دسمبر 1905ء ص 6) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو الہام ہوا تھا دو شہتیر ٹوٹ گئے۔( بدر 14 ستمبر 1905 ء ص 2 کالم 1 ) الحکم 10 ستمبر 1905ء ص 12 کالم 4 پر یہ ان الفاظ میں ہے۔