حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 8
11 مخالف تھے مگر اب حنفی اور اہل حدیث دونوں مخالف ہو گئے۔جانی اور مالی دونوں رنگ میں نقصان پہنچنا شروع ہو گیا مگر خدا کے فضل اور رحم نے دستگیری کی کہ پائے استقلال میں فرق نہ آیا چونکہ آپ کے کام میں اخلاص اور للہیت تھی مخلوق خدا کی ہمدردی اور انکی ہدایت کا شوق تھا۔ہر مجلس ہر جگہ ہر گاؤں میں جانا ملنا اور دعوت الی اللہ کرنا شروع کر دی۔خدا کے فضل سے ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ ، دن دگنی اور رات چوگنی ترقی شروع ہوگئی اور خدا تعالی کے فضل سے دوبارہ جماعتیں قائم ہونا شروع ہو گئیں جہاں پہلے اہلحدیث جماعتیں تھیں اب ان کی جگہ حضرت صاحب کو ماننے والی جماعتیں تیار ہونی شروع ہوگئیں۔(ماہنامہ انصار اللہ اگست 1977 ء ص 11-13) فتویٰ تکفیر کی حقیقت مشہور اہل حدیث لیڈر مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے 1884ء میں براہین احمدیہ از حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں ریویو لکھا: ”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ اللَّهُ يُحْدِتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْراً۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔(اشاعۃ السنہ جلد ہفتم نمبر 6 ص169-170 بحوالہ حیات طیبہ ص 48) لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو یہی مولوی آپ کا مخالف ہو گیا اور 1891ء میں اس نے حضرت اقدس کے خلاف 266 صفحات پر