حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 7
10 خدمت میں عرض کی کہ حضور میری بیعت لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہ کر بیعت لینے سے انکار کر دیا کہ مجھے بیعت لینے کا اذن نہیں۔چنانچہ اس تاریخی ملاقات نے حضرت مولوی صاحب کی کایا پلٹ دی۔جس امام مہدی کی تلاش تھی وہ آگیا ہے حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کیے بغیر جہاں جہاں تعلق اور رسوخ تھا اور جہاں جہاں اہلحدیث زمانہ میں جماعتیں قائم کی تھیں دعوت الی اللہ کرتے اور پیغام دیتے تھے کہ جس امام مہدی کی تلاش تھی وہ آ گیا ہے۔بس یہ سنتے ہی حنفی مسلک کے لوگ تو اہلحدیث ہونے کی وجہ سے پہلے ہی دشمن تھے۔اب اہلحدیث نے بھی مخالفت شروع کر دی۔اب مولوی صاحب نے ایک اور قدم اٹھایا۔نئی مخالفت اور دشمنی شروع ہو گئی مگر آپ اپنی دھن کے پکے تھے۔دعوت الی اللہ اور وعظ کرتے کہ دوستو ! یہ وہ دولت ہے جو 1400 سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔بزرگانِ سلف اسی شخص کی زیارت کی حسرت سینوں میں لئے قبروں میں دفن ہو گئے۔اے اہلحدیث دوستو ! وہ شخص جس کے متعلق منبروں پر چڑھ کر تمہیں وعظ سنائے جاتے تھے کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور تم بھی اس کے انتظار میں تھے اس کے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے اب خدا نے فضل کیا ہے کہ وہ شخص آ گیا ہے چونکہ تم ہی وہ مؤخد اور مجاہد جماعت ہو جو اس خدمت کے لئے تیار کی گئی تھی میرے لئے نہایت دکھ اور رنج کا مقام ہوگا کہ اگر تم ہی اس نعمت سے محروم رہ جاؤ۔ابتداء میں تو نہایت دکھ اور تکالیف کا سامنا تھا اہلحدیث جماعت کے قیام سے اب جانی اور مالی طور پر آرام ہو گیا تھا مگر حضرت صاحب کا نام لیتے ہی دوبارہ پھر کئی گنا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اہلحدیث زمانہ میں صرف حنفی مسلک کے لوگ