حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 1
4 منطق ، فلسفہ، عربی ، فارسی، پشتو علم قیافہ علم طب میں غرضیکہ ہر مروجہ علم میں مولیٰ کریم نے آپ کو کمال بخشا ہوا تھا۔علم کلام اور علم مناظرہ میں آپ ایسے قابل تھے کہ کوئی کتاب مناظرہ کے لئے ساتھ نہ لے جاتے۔حدیث کے ویسے ہی حافظ تھے۔صرف قرآن کریم اپنے پاس رکھتے اور فرمایا کرتے کہ گھر سے ہتھیار لے کر دشمن کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے ممکن ہے ہمارا ہی ہتھیار چھین کر دشمن ہم پر حملہ کر دے۔بلکہ عقلمندی اسی میں ہے کہ دشمن کا ہتھیار چھین کر اس پر وار کیا جائے۔یعنی جود دشمن اعتراض کرے اسی کو ایسے رنگ میں الٹا کر اسی کے گلے ڈال کر سوال کا مطالبہ کرو۔ہاں یہ بات ضرور تھی کہ آپ غریبانہ فقیرانہ اور درویشانہ مذاق اور مزاج کے تھے۔“ دینی مصروفیات اور اثر ورسوخ (ماہنامہ انصار الله اگست 1977 ء ص 11) 1865ء میں جہلم واپس آئے تو اہل حدیث تحریک کے پر جوش داعی بن گئے اور اہل حدیث مکتب فکر کی اشاعت کے لئے کوشش شروع کر دی۔گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور جہلم میں تحریک کی بنیاد رکھی۔اہلِ حدیث کے زمانہ میں آپ کا اثر و رسوخ اور حلقہ اثر دریائے جہلم کے پار میر پور، ریاست کشمیر علاقہ ، راجوری ،علاقہ کھڑی ،اس کے بعد گجرات ، وزیر آباد، سیالکوٹ ، مرید کے ریلوے اسٹیشن کے شمال کی طرف گیارہ میل فاصلے پر پٹیالہ دوست محمد خان کے نزدیک ایک گاؤں نجی ہے۔ان مقامات پر آپ نے مختلف جماعتیں قائم کیں اور انکی نگرانی کرتے تھے۔انہیں ایام میں سرحد ( خیبر پختونخواہ) کی طرف بھی عام طور پر امام مہدی کی تلاش میں پیدل جایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک بزرگ بنام پیر صاحب کو ٹھے والے تھے ان کی خدمت میں رہ کر سکتے کی خدمت بطور مجاہدہ بجالایا کرتے تھے۔تیر آہ میں بھی کوئی بزرگ تھے ان