حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page x of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page x

3 جہلم کا ہی نشان ٹھہرے اور وہیں ابدی نیند سور ہے۔آپ کا گھرانہ چونکہ علم کا گہوارہ تھا اس لئے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی والد، والدہ اور بڑے بھائیوں سے حاصل کی۔اسی طرح قرآن کریم کم عمری میں حفظ کر لیا۔آپ کو احادیث بھی ایک لاکھ سے زائد یاد تھیں۔آپ نے دینی علم کے علاوہ علم طب میں بھی کافی دسترس حاصل کی۔علیم دین سیکھنے کا شوق ایک واقعہ جو آپ کے علم دین کو زیادہ گہرائی میں جا کر سیکھنے کا سبب بنا، یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو کسی نے گاؤں میں ”مولوی کہا اس پر ایک دوسرے شخص نے پہلے کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ یہ خود مولوی ( عالم ) نہیں۔ہاں ! مولوی صاحب کے بیٹے ہیں۔یعنی ان کے والد بہت بڑے عالم ہیں۔اس بات کا آپ پر بہت گہرا اثر ہوا اور آپ پچپیس 25 برس کی عمر میں گھر سے دینی علوم حاصل کرنے کے لئے نکل پڑے۔تعلیمی قابلیت مزید علم کی خاطر آپ نے دہلی کا رخ کیا۔دہلی میں آپ نے اس وقت کے مشہور عالم حدیث مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب سے علم حدیث حاصل کیا۔حضرت مولوی عبد المغنی صاحب ( فرزند حضرت مولانا برہان الدین صاحب تحریر کرتے ہیں کہ والد صاحب معمولی پڑھے لکھے نہ تھے ، بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ فی زمانہ لوگ حافظ اس کو کہتے ہیں جو قرآن شریف کا حافظ ہو۔مگر محدثین کی اصطلاح میں حافظ اسے کہتے ہیں جو قرآن اور حدیث دونوں کا حافظ ہو۔آپ کو بخاری شریف حفظ تھی۔اس کے علاوہ قرآن، حدیث ، تفسیر، فقہ،صرف ونحو،