مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 6
نقاب اٹھ جانے کے بعد " مولانا مودودی صاحت سے بھی بجا طور پر دو سوال کئے جا سکتے ہیں۔کیا یہ راز آپ پر آج فاش ہوتے ہیں ؟۔اگر آپ پر یہ خود غرضی شرع سے ہی روشن تھی جو جب مسلمانوں کے سروں کو آپ کے قول کے مطابق "شطرنج کے مہروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اسوقت آپنے قوم کو کیوں خبردار نہ کیا کہ اسی دھو کا کیا جا رہا ہے؟ دار مارچ کو گورنمنٹ ہاؤس کے اس جلسہ میں جو امن کی اس کیلئے بلایا گیا تھا۔آپ کا رویہ آپ کے اس بیان کے بالکل برعکس تھا اور سلمانوں کے سڑی کو بچانے کیلئے اس کی ہیں پر دستخط کرنے سے اپنے صاف انکار کر دیا تھا۔ان کیلئے اس اجلاس کی ناکامی کی ذمداری گر کسی فرد واحد پر عاید کی جاگتی ہے تو وہ آپ ہیں۔آخر اسوفت گورنر پنجاب وزیراعلی پنجاب اورلاہور کے ذمہ دار کا یہ عمائد کے جلسہ میں آپ نے اس ناز کو کیوں ناش نہ کیا کہ سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں بلکہ نام اور ہر کا ہے اور خود غرض لوگ اپنی ذاتی امراض کیلئے غذا اور رسولی کے نام سے کھیل رہے اور مسلمانوں کے سردی کو شطرنج کے مہروں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ؟ آج کا ماہ بعداس انکشاف تو ایک عام آدمی اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپکے سامنے بھی سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں نام اور بہرے کا تھا اور آپ اپنی اغراض کیلئے خدا اور رسول کے نام سے کھیل رہے تھے اور آپنے بھی مسلمانوں کے جان ومال کو اپنی اغراض کے لئے جوئے کے داؤں پر لگا دیا۔- ب۔دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ جو پوری ملت اسلامیہ کی انقلابی قیادت کے