مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت

by Other Authors

Page 5 of 16

مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 5

پہلا ادارية ز جناب مودودی صاحب نے سارہ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک بیان دیا تھا کہ :- اس کارروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں ایک یہ کہ اجترانہ کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں ہے بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان ومال کو اپنی اغراض کیلئے جوئے کے داؤ پر لگا دینا چاہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرار داد کے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساہیانہ کی ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطور خود کو سائے ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور طریقوں سے کیا جائے میں کبھی غیر نہیں ہوسکتی اور اپنی اغراض کیلئے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے بو مسلمانوں کے سروں کو شطر نج کے مہروں کی طرح استعمال کہیں اللہ کی تاثیر ے کبھی سرفرازہ نہیں ہو سکتے۔۔۔۔الخ " دروز نامه تسلیم کیاہور بار جولائی ۱۵ این امیر جماعت اسلامی کے اس بیان پر جناب حمید نظامی نے حسب ذیل اداریہ کھا تھا۔