مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 15
ہو جاؤ اور یہ کم یہ جانے کے باوجود دیا گیا کہ اس وٹنگ پر ہی پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوگا۔اسلئے پاکستان کو ووٹ نہ دینے کا مطلب پاکستان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔پاکستان کی اس اشتد مخالفت کے با وجود جب پاکستان قائم ہو گیا تو مولوی مودودی صاحب جو سائے ہندوستان میں اسلام کو غالب بنانے کے عزم کا اظہار فرمایا کہ تے تھے بھاگ کر سب سے پہلے پاکستان چلے آئے۔مولانا آزاد، سید حسین احمد مدنی صاحب مولوی حفیظ الرحمن صاحب نے بھی پاکستان کی مخالفت کی تھی مگر جب پاکستان قائم ہوگیا تو ان میں گہر ایک نے یہ کہا کہ پاکستانی مسلمانوں کو اپنا اپنا وطن مبارک ہو ہم اسکی ترائی کیلئے دعا کرتے ہیں مگر ہم مہندستان میں ہی یہ ہیں گے اور ہندوستانی مسلمانوں کی خدمت کر دیں گے مگر پرانے یم با علم میں علیہ اسلام کے دراجی مودودی صاحب کے نائب جناب نصراللہ خان عزیز گشت کے تیسرے ہفتہ میں ہی سولی سیا کہ ٹریٹ میں سلم لیگی وزیروں کے دفاتر کا طواف کرتے دیکھے گئے کہ مولوی مودودی صاحب کو مہندستان سے پاکستان پہنچانے کیلئے ٹوکی عنایات ہو جائے۔جماعت اسلامی کی ایک شاخ ہندوستان میں بھی رکھی گئی مگر سیکونی من دوستان میں اس جماعت کا موقف اسکی امیر کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ ہم ایک غیر فرقہ دارانہ جماعت ہیں اور بلا امتیانہ مذہب ملت سب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں یعنی سیکونہ اور ا دینی ہندستان میں تو اس ملک کے وفادار اور خدائی خدمت گار با مگر پاکستان میں جو بہر حال مسلمانوں کا ملک سے بخدائی فوجدار اور اس ملک کی بہتری کی سر تجویز کے مخالف (نوائے وقت لاہور ولائل پور ، رستمیر ا ء )