مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 14
۱۴ یں دو باتیں کوئی ایسا شخص ہی کہ سکتا ہے جویا تو پرلے درجے کا احمق ہو یاحسن بن صباح یا راسپوٹین کی طرح تیار آخری فقرہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اور مصنوعی طور پر وحدت پیدا کرنیکی کوششوں کا موئی ا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا یعنی حد کو فون کیا اور یہ گلی بھی دیدی که اسکان تیرا چھا نہ ہوگا یا پر بھی یہ ارشاد ہے کہ میں نے آجنگ مور کے خلاف اظہار رائے نہیں کیا۔افسوس کہ پاکستان کو آٹھ برس گزر گئے مودودی صاحب نے ابھی تک مسلمان عوام کا یہ قصور معاف نہیں کیا کہ انہوں نے مودودی صاحب کی بجائے قائد اعظم کی بات کو پانی با در است کیوں بنایا۔گزشتہ آٹھ سالوں میں ایک مرتبہ بھی تو پاکستان کے حق میںکوئی کلمہ خیرا کی زبان فیض ترجمان سے نہیں نکلا۔پاکستان بہت بڑا سہی مگر آٹھ سالوں میں کوئی بات تو ایسی ہوئی ہوگی وجود حوصلا افران کی سخت ہوتی مگر مولوی مودودی صاحب جب بھی بولیں گے ایسی بات کہیں گے سے پاکستان کے مفاد پر کاری ضرب پڑتی ہو۔عین اس کا نہ میں جب ہزاروں مجاہدین جہاد آزادی کشمیر میں حصہ لے رہے تھے اور سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے مودودی صاحب نے یہ نتوی دیا کہ یہ جہاد ہے ہی نہیں اور اس لڑائی میں شرکت حرام ہے۔مگر یو شخص پاکستان کی لڑائی میں شرکت حرام سمجھتارہا ہو اس سے یہ توقع ہی عبث تھی کہ وہ جہاد آزادی کشمیر کی حمایت کریگا۔پاکستان کے متعلق بھی لوی صاحب کی روش اسی قسم کی تھی کہ میں اس مسئلہ کی کوئی حقیقی اہمیت ہی نہیں سمجھتا۔پھر یہ فرمایا کہ مسٹر جناح اور مسلم لیگ والے اسلام کو ایک چھوٹے سے خطے میں محدود کر دینا چاہتے ہیں۔میں سارے ہندستان میں اسلام کے لیے کا خواہاں ہوں پھر یہ حکم ہوا کہ پاکستان کے سوال پر ووٹنگ کے وقت غیر جانبدار